3دہائیوںمیں تعداد3500سے گھٹ کر900رہ گئی ،ماہر کاریگر بے روزگار
سری نگر//جہاں ہماچل پردیش کی حکومت نے اپنی آبگاہوں کی کشش بڑھانے کیلئے ہائوس بوٹوںکی تعمیر شروع کردی ہے ،وہیں کشمیرمیںہائوس بوٹوںکی مرمت وتجدید اور تعمیرنو پرپابندی برقرار ہے ۔سری نگرمیں واقع مشہور زمانہ قدرتی آبگاہ ڈل جھیل میں مشہور ہاؤس بوٹس تیرتے رہنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ موجودہ حالات کے پیش نظر، ہاؤس بوٹ بنانے والے کاریگر بے روزگاری کاسامنا کررہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک انگریزی اخبار دکن ہرالڈ میں سیاحوں کی پسندیدہ ترین قیام گاہ ہائوس بوٹ کی زبوں حالی کو ایک رپورٹ میں بیان کیاگیاہے ۔رپورٹ کے مطابق جھیل ڈل اور دریائے جہلم کے کناروں پر موجود رہنے والے رنگ برنگے ہاؤس بوٹس، جو واردِکشمیر ہونے والے ہر سیاح کے لئے سب سے بڑی توجہ کا مرکز ہیں، آہستہ آہستہ موت کا شکار ہوکر قصئہ پارینہ بننے کی حالت سے دوچار ہیں کیونکہ ہائوس بوٹ مالکان قدرتی آگاہوں پر چلتے پھرتے ان مہمان خانوںکی مرمت کیلئے اجازت حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے نظرآ رہے ہیں۔جھیل ڈل اور دریائے جہلم کے کناروں پر موجودرہنے والے ہائوس بوٹوںکی تعداد جوکبھی 3500ہوکر کرتی تھی ،اب گھٹ کر 900رہ گئی ہے ،کیونکہ ارباب حل وعقد نے ہائوس بوٹوںکوبچانے کیلئے کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی ۔بتایا جاتاہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں 40 فیصد سے زیادہ ہاؤس بوٹس غائب ہو چکے ہیں، اور ہائوس بوٹ مالکان کواندیشہ ہے کہ اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو ہائوس بوٹ جلد ہی تاریخ بن جائیں گے۔ہائوس بوٹ مالکان کاکہنا ہے کہ پہلے ہمیں دیودارکی مخصوص لکڑی حاصل کرنے میں دشواریوںکا سامنا کرنا پڑا،اور پھر حکومت نے ہائوس بوٹوں کی مرمت میں رکائوٹیں کھڑی کردیں ۔انہوںنے کہاکہ اب ہم اپنے ہائوس بوٹ میں ایک کیل بھی نہیں لگاسکتے ہیں ،اور اس کیلئے بھی اجازت لازمی قرار پائی ہے ۔ہائوس بوٹوں کی مرمت ،تجدید اور تعمیر نو پر عائد پابندیوںکی وجہ سے ہائوس بوٹ بنانے کے ماہر کاریگر بھی روایتی روزگار سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر،ہم جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے رہنما خطوط کے پیش نظر بیروزگاری کاسامنا کررہے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ عدلت عالیہ نے جھیل ڈل اور نگین پر ہاؤس بوٹس کی تعداد میں مزید اضافہ پر پابندی عائدکررکھی ہے۔ہاؤس بوٹس تیرتے مکانات ہیں جو سری نگر میں ڈل اور نگین جھیلوں کے کنارے لنگر انداز ہیں اور یہ پانی پر ہوٹل اور گھر کے قیام کا مرکب ہیں۔نیوز رپورٹ کے مطابق 50 سے زائد ہاؤس بوٹس بنانے والے ایک ماہر کاریگر عبدالخالق نجار نے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں سے ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ہاؤس بوٹس کی تعمیر کے لئے دیودار کی لکڑی کی عدم دستیابی اور مرمت کے لئے اجازت کا فقدان کام میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔انہوںنے کہاکہ دیودار کا سڑاند سے بچنے والا کردار اسے ہاؤس بوٹس بنانے کیلئے ایک مثالی لکڑی بناتا ہے۔عبدالخالق نجار نے کہا کہ اس کے آباؤ اجداد نے کئی نسلوں تک اس طرح کی لکڑی کا کام کیا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ میں ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہوں۔ماہر کاریگر نے خبردار کیاکہ اگر موجودہ کشتیوں(ہائو س بوٹوں) کی مرمت نہیں کی گئی تو آنے والے سالوں میں کوئی ہاؤس بوٹس نہیں ہوں گی۔ 90 فیصد ہاؤس بوٹس کو مرمت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہاؤس بوٹس بنانے کیلئے درکار لکڑی آسانی سے دستیاب نہیں ہے اور اگر ہے تو یہ بہت مہنگی ہے۔خیال رہے پچھلے سال دسمبر میں، ایک پارلیمانی کمیٹی نے کشمیر کے ہاؤس بوٹ مالکان کے لئے بحالی کی پالیسی بنانے کی سفارش کی تھی جو اپنا روایتی کاروبار چھوڑ کر متبادل ذریعہ معاش کے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں۔پینل نے ایک تجویز کا بھی نوٹس لیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے زیر غور ہے، ہاؤس بوٹ کے مالکان کو ان کی ہاؤس بوٹس کی مرمت یا دوبارہ تعمیر کیلئے رعایتی نرخوں پر لکڑی فراہم کی جائے گی ۔تاہم کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی اس سلسلے میںکوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور مالکان، جو اپنی ہاؤس بوٹس کی مرمت کرنا چاہتے ہیں، تاحال لکڑی کے انتظار میں ہیں۔










