سوڈان میں سول حکمرانی کے معاہدے پر دستخط ملتوی

سوڈانی حکام نے ایک بار پھر ایک سویلین حکومت کے قیام کے معاہدے پر دستخط کو ملتوی کر دیا کیونکہ مذاکرات میں شامل فریقین فوج کی تنظیم نو کے حوالے سے کسی اتفاق رائے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ اکتوبر 2021میں فوجی بغاوت کے بعد ملک میں انتخابات کرانے کے حوالے سے ابتدائی بات چیت گزشتہ برس کے اواخر میں ہوئی تھی۔ اس کا مقصد کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا تھا جس سے ملک کو دوبارہ سویلین ٹریک پر لایا جاسکے۔بغاوت کے بعد ملک میں احتجاجی مظاہروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ دہائیوں سے جاری پابندیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت جو پہلے ہی ابتر تھی، بغاوت، کورونا وائرس کی وبا اور یوکرین میں جاری جنگ کے بعد مزید ابتر ہو گئی ہے۔اس معاہدے پر یکم اپریل کو دستخط ہونا تھے۔ بعد میں اس کی تاریخ جمعرات تک موخر کردی گئی تھی۔ لیکن اب سوڈانی حکام نے اسے ایک بار پھر ملتوی کردیا اور دستخط کے لیے کسی نئی تاریخ کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف ایک طاقتور سویلین گروپ، فورسز آف فریڈم اینڈ چینج کولیشن نے جمعرات 6اپریل کو احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی۔خیال رہے کہ 6اپریل سوڈان میں دو اہم واقعات کی علامت ہے۔ اسی روز سن 1985اور 2019میں دو بغاوتیں ہوئی تھیں جن میں بالترتیب دو صدور جعفر نمیری اور عمرالبشیر کو معزول کر دیا گیا تھا۔
معاہدہ ملتوی کیوں ہوا؟
فورسز آف فریڈم اینڈ چینج اتحاد کا کہنا ہے کہ فوجی تنظیم نو پر پیش رفت تو ہوئی ہے تاہم نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو فوج میں ضم کرنے کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ مبینہ طورپر یہ اختلافات آر ایس ایف کے رہنما محمد حمدان داگلو اور2021 کی بغاوت کی قیادت کرنے والے فوجی حکمراں جنرل عبدالفتاح البرہان کے درمیان ہیں۔آر ایس ایف جنجاوید ملیشیا سے ابھری ہے، جسے اکیسویں صدی کے اوائل میں مغربی دارفور خطے میں بشیر نے اپنی کارروائیوں کے ذریعہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس ملیشیا پر دارفور کے غیر عرب باغیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔تاہم عمر البشیر کی سن 2019میں اقتدار سے برطرفی کی وجہ سے آر ایس ایف کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اس کے رہنما داگلو کو بشیر کے بعد سوڈان کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔