حسن ساہو
شہر کے گنجان آباد علاقے کے وسط میں آستان چوک واقع ہے۔ دن تو دن رات دیر گئے تک اس چوک کے آس پاس خوب چہل پہل اور گہماگہمی کا سماں طاری رہتا ہے۔ شاہراہ کے دونوں جانب لمبی، چوڑی اور اونچی عمارتوں کا سلسلہ ہے جن میں خاصی تعداد کاروباری اداروں کے علاوہ بینکوں، ہوٹلوں اور طرح طرح کے دکانداروں کی ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ سیاحوں کی سرگرمیاں زیادہ تر اسی چوک میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
رات کے ملکجے سائے پھیلنے کے ساتھ ہی اس بھیڑ والے چوک میں آناً فاناً کہرام مچ گیا۔ ہوایوں کہ بڑی ندی والی رابطہ سڑک میں سے دو اسکوٹروں پر سوار چار نامعلوم بندوق بردار نمودار ہوگئے اور بھرے بازار میں اندھا دھند گولیاں برساکر کئی افراد کو نشانہ بنا ڈال۔ لوگ ، جن میں خواتین وبچے بھی شامل تھے،جان بچانے کی خاطر ادھر ادھر بھاگ نکلے۔ موقعہ واردات پر تعینات پولیس وحفاظتی دستے کے مسلح جوانوں نے فوراً جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک بندوق بردار کے دائیں کندھے پر گردن کے پاس گولی لگی، البتہ زخمی ساتھی کو لے کر بندوق برداروردی پوشوں کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
دوجوان، ایک خاتون اور ایک معمر شخص موقعے پر ہی دم توڑ بیٹھے۔ باقی درجن بھر زخمی افراد کو اسپتال لے جایا گیا جن میں کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔ الغرض دوپائوں والے انسان ناطق کے ہاتھوں پھر خوان خرابے سے لبریز واقعہ نمودار ہوا اور تباہی وبربادی کی منہ بولتی تصویر اپنے پیچھے چھوڑگیا۔
ادھر سے بندوق بردار رات کے اندھیرے میں شہر کے مضافاتی علاقے کی جانب رواں دواں تھے۔ زخمی ساتھی کی حالت ابتر ہوتی جارہی تھئی۔ رہ رہ کے اس کے کراہنے کی آواز انہیں بے چین کررہی تھی۔ وہ کسی ڈاکٹر یا دواخانے کی تلاش میں تھے، ساتھ ہی یہ خدشہ بھی تھا کہ پکڑے نہ جائیں۔
دراصل حالات ہی اس قدر تشویش ناک وابتر تھے کہ لوگوں کو ایک دوسرے پر بہت کم اعتماد رہا تھا، خاص کر پچھلے چند مہینوں میں جبکہ دہشت اور خوف وہراس پھیلانے کی نیت سے کچھ بے گناہ افراد تک کو بھی دائمی نیند سلادیا گیا تھا۔
اچانک ان میں سے ایک کی نظر پرائیوٹ کلنک کے بورڈ پر پڑی۔ دراصل یہ ڈاکٹر زرینہ وہاب کی کوٹھی تھی۔ اس نے سڑک کی جانب صحن میںکلنک کھول رکھا تھا جہاں صبح شام مریضوںکا علاج کرتی تھی۔ بندوق بردار نے کال بیل دبا دی اس خیال سے کہ چھوٹے میاں ہوں گے، چوکیدار رحمن بابا نے بیرونی گیٹ کھولا۔ صورت حال بھانپتے ہی وہ گھبراگیا۔ اتنے میں ڈاکٹر صاحبہ اندر سے تشریف لائیں۔
جو ان کراہ رہا تھا۔ رحمن بابا نے چاہا کہ بندوق برداروں کو کسی اور جگہ جانے کے لئے کہے۔ اتنے میں ڈاکٹر صاحبہ کی آواز کانوں سے جاٹکرائی۔
’’بابا !کلینک کھول دو۔۔ ان کو اندر لے آئو۔‘‘
اور ڈاکٹر زرینہ وہاب بجلی کی سرعت کے ساتھ اپنے کام میں جٹ گئی۔
’’آپ نے ہمارے ساتھی کو نئی زندگی دی ہے۔ یہ احسان زندگی بھر نہ بھولیں گے۔‘‘
’’یہ میرا اخلاقی وانسانی فرض تھا۔ ‘‘ ڈاکٹر صاحبہ نے آہ سرد کھینچا اور آرام سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہہ دیا،’’بابا!۔۔ ان کے لیے چائے بسکٹ لے آئو۔‘‘
’’شکریہ!۔۔ اب ہم لوگ جائیں گے۔‘‘
’’میں نے انجکشن لگادیا ہے۔ ہوش میں آنے تک انتظار کرو۔‘‘
’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم کون ہیں، آپ نے ہماری مدد کی۔‘‘ ایک جوان نے عاجزی سے کہا۔
’’بھرے بازاروں میں کارروائی کرنا اور بے گناہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا آپ لوگوں کو اچھا لگتا ہے۔ کاش!۔۔۔ آپ لوگوں کو احساس ہوتا کہ خون خرابے کی ڈگراپنانے سے حالات میں سدھار نہیں آتا۔ تعمیری انداز فکر اپنانے سے ہی مسائل کا حل ڈھونڈاجاسکتا ہے۔‘‘
اتنے میںرحمن بابا چائے کی ٹرے لے کر وارد ہوا۔
بندوق بردار چائے نوش کررہے تھے کہ زخمی جوان ہوش میں آگیا، ساتھ ہی ڈاکٹر صاحبہ کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے موبائل کان سے چسپاں کیا، اس کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا، حالات ابتر ہونے لگی۔
’’ڈاکٹر صاحبہ کیا بات ہے۔ آپ پریشان لگ رہی ہیں۔‘‘ ایک جوان نے پوچھا۔
ڈاکٹر زرینہ وہاب نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ اانکھوں کے تر حلقے رومال سے خشک کرکے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گویاہوئی۔
’’کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا کہ کسی نہتے اور بے قصور کو ستایا جائے یا اس کا خون کیاجائے۔ کاش!۔۔۔ بزرگوں یا قائدین نے آپ کو انسانی اصولوں کے بموجب صحیح ترتیب وتعلیم سے نوازا ہوتا تو یہ خونن خرابے دیکھنے کو نہ ملتا۔ حقیقت حال سے آنکھیں چرائے فقط جذباتی تقریروں یا تحریروں کے سہارے تم جیسے نوجوان کو غیر واجب اقدام اُٹھانے کی ترغیب دینا کسی صورت میںجائز نہیں۔ تم لوگ اب چلے جائو اس سے پہلے کہ کوئی دیکھ لے۔‘‘
چاروں جوان ڈاکٹر زرینہ کی نصیحت آمیز باتیں سن کو گہری سوچ میں پڑگئے اور ایک زبان ہوکر کہ گئے،’’آپ تو واقعی ڈکٹر کے بھیس میںفرشتہ ہیں۔‘‘
’’نہیں نہیں!۔۔۔ میں فرشتہ نہیں ہوں!‘‘ ڈاکٹر صاحبہ کا دل بھرآیا۔’’میں بدنصیب وعتاب زدہ خاتوں ہوں۔میرے سرتاج ڈاکٹر وہاب اشرف کو کچھ برس قبل اسپتال سے گھرآتے ہوئے نامعلوم بندوق برداروں نے اغوا کرلیا تھا اور پھر اگلے روز اس کی لاش دریا کنارے ملی تھی اور آج کچھ دیرپہلے آستان چوک میںفائرنگ کا جوواقعہ پیش آیا وہاں زخمیوں میں شامل میرا اکلوتا بیٹا ناصر بھی ہے جوکوچنگ سے واپس گھر آرہا تھا۔ موبائل پریہی اطلاع ملی تھی۔مجھے اسٹیٹ اسپتال جانا ہے۔ آپ لوگ چلے جائو۔ خدائے برحق آپ کو درست سوچنے اور نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔‘‘
یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحبہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اسپتال کی جانب روانہ ہوگئی اور بندوق بردار تذبذب واضطراب کی حالت میں غلطاں ایک دوسرے کو اندازدگر میں گھورنے لگے۔ شرمندگی وپشیمانی کے آثاران کے چہروں پر نمایاں تھے۔ ایک نئے احساس کو ذہنوں میں بسائے وہ مرے مرے قدموں کے ساتھ کلنک سے باہر آگئے۔
الحسنات، ہمدانیہ کالونی بمنہ ،سرینگر کشمیر
9906439491










