سری نگر//پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو کہا کہ کشمیری مسلمان ایک کشمیری پنڈت کے قتل پر شرمندہ ہیں۔انہوں نے جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعوے پر حکومت پر تنقید کی۔جے کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی مقتول پنڈت سنجے شرماکے لواحقین سے تعزیت وہمدردی کااظہار کرنے کیلئے پیر کواچھن پلوامہ کادورہ کیا ۔انہوںنے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت عسکریت پسندی کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اسے (سنجے شرما) کس نے مارا؟۔محبوبہ مفتی نے سوال کیاکہ حکومت کیا کر رہی ہے؟۔جموں و کشمیر کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنجے شرما کے قتل پر کشمیری مسلمان شرمندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہی لوگ ہیں جنہوں نے 1947 میں وادی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں، ہندوؤں اور سکھوں کی حفاظت کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا جب برصغیر فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں تھا۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری مسلمان آج بے بس ہیں۔محبوبہ مفتی کے بقول آج کشمیری مسلمان پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک طرف حکومتی زیادتیاں ہیں اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے نام پر ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، گھروں کو سیل کر دیا گیا ہے، این آئی اے اور ای ڈی کے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ سنجے شرما نے اپنے پیچھے ایک نوجوان بیوہ اور 3بچے چھوڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس کی بیوہ کو نوکری فراہم کرنی چاہیے۔










