جموں و کشمیرمیں چناو ہوں گے اور بہت جلد ہوں گے ،جس کا فیصلہ الیکشن کمشنر کریں گے:ترون چگ

370اور35Aکی تسنیخ کے بعد جموںو کشمیر کے لوگوں کو حقوق مل رہے ہیں

سری نگر//بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیشنل جنرل سیکٹری ترون چُگ نے بتایا جموںو کشمیر میں چناو ہوں گے اور بہت جلد ہوں گے جبکہ کہ370اور35Aکی تسنیخ کے بعد جموںو کشمیر کے لوگوں کو حقوق مل رہے ہیں یوٹی میں سچا لوک تنتر چلنے سے یوٹی میں سچا لوک تنتر چلنے کے سے مفتیوں،عبداللہ اور گاندھیوں کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق ایک انٹر ویومیں ترون چگ نے بتایا کہ 100سے زیادہ قانون جموں و کشمیر میں لاگوں ہوئے ہیںجو عوام کے مفاد میں تھے انہوں نے بتایا ان قوانین کی نفاذ کی وجہ سے یہاں جموںو کشمیر کی بیٹیوں کو آزادی ملی ہے اوریہاں یہ قانون نہ ہونے کی وجہ سے جموںو کشمیر کے بیٹیوں،شیڈول ٹرائب اور سوشل کاسٹ زمرے کے لوگوں کو غلام بنا کے رکھاگیا تھا ۔بی جے پی نیشنل جر نل سیکٹری نے بتایا فاروق عبد اللہ کی منہ سے غلامی کی باتیں سننااچھا نہیں لگتا ہے کیوں کہ’فاروق عبد اللہ صاحب70سال کے آپ کے گناہوں کو لوگ یاد کر کے روتے ہیں ‘‘۔انہوں نے بتایا جموں و کشمیر میں چناو ہوں گے اور ضروبہت جلدر ہوں گے ۔جس کا اعلان الیکشن کمشنر کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ ووٹر فہرستوں کا کام جاری ہے اور مکمل کے بعد انہیں شائع کیا جائے گا اور اس بارے میں اگر کسی کو اعتراض ہوگا وہ بھی وصول کئے جائیں گے جس کے بعد جس طرح وزیر داخلہ اور وزیر عظم نے کہا کہ یہاں انتخاب ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔بی جے پی لیڈر نے کہا کوئی باپ بیٹا،بیٹے کا بیٹا بیٹھے کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن ایک آزاد خود مختار ادارہ وہ انتخابات کے حوالے سے خود فیصلہ لے گا۔انہوں نے کہا جو لوگ آج سوال کرتے ہیںمیں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہاں پنچائیت انتخابات منعقد کیوں نہیں کئے ؟ ۔چگ نے کہا آج جب پنچائیت اور ڈی ڈی سی انتخابات آئیے تو آپ نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا ہے؟۔انہوں نے کہا جموںو کشمیر میں100,200,500ووٹوں سے لوگ منتری بنتے تھے ہزار دو ہزارووٹوں سے یہ لوگ لوک سبھا میں پہنچتے تھے ۔بائیکاٹ کال کو ان لوگوں نے ایک ہتھیار بنایا تھا اور ’’لوک تنتر‘‘ کاقتل کیا تھااب یہاں سچا لوک تنترکھڑا ہوا ہے۔اور اب چاہے مفتیوں،عبد اللہ اور گاندھی ،نہرو پری واروں کے پیٹ میں زبردست درد ہو رہا ہے ۔بے جے پی لیڈر نے بتایا تین طلاق خواتین پر صدیوں سے بہت ظلم ہو رہا تھا اورملک بیٹیاں اس ظلم سے آزادی چاہتے ہیں اور وزیر عظم نے اس حوالے سے جو اقدام اٹھائے ہیں اس پر ملک کے لوگوں کو فخر ہے۔انہوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ گناہ بھی کریں گے اور سزا سے بھی بھاگیں گے؟انہوں نے بتایا حزب اختلا ف خاص کر کانگریس لیڈران اور راہل گاندھی کے پاس اب کچھ ہے ہی نہیں ہے اور وزیر عظم نرندری مودی کے خلاف آناف شناف بولتے ہیں اور یہ فیشن ملک برداشت نہیں کرے گا ۔انہوں نے بتایا اپوزیشن کے پاس کچھ نہیں وہ تززب کے شکار ہوئے ہیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے لیڈران بیروں ممالک کے لیڈارن کے ساتھ ملک میں لنگڑی سرکار لانے کے منگوری لال مکے سپنے دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا ملک نرندی مودی کے صدارت میں مضبوط سرکار چاہتی ہے ۔اور ملک نے پھر طے کیا ہے کہ 2024میں مودی جی کی سرکار کو ہیں بنائیں گے۔