سیکرٹری ثقافت نے جموں میں 4روزہ ڈوگری اَدبی و ثقافتی میلے کا اِفتتاح کیا

فن اور اَدب وہ آئینہ ہے جو سماجی ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے ۔ فن کار محکمہ ثقافت کی سرگرمیوں میں شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ

جموں//سیکرٹری ثقافت ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے کہا کہ اَدب معاشرے کے تمام عمر کے گروپوں اور طبقات کو منتقل کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ یہ ہماری ثقافت اور تنوع کو پروان چڑھانے کو یقینی بنانے کے لئے ایک تعمیری قوت ہے۔اُنہوں نے اِن خیالات کا اِظہار آج کے ایل سہگل ہال ابھینو تھیٹر میں 4روزہ ڈوگری ادبی و ثقافتی میلے کا اِفتتاح کرتے ہوئے کیا۔میلے کے اِفتتا ح پدم شری ڈاکٹر جتندر اودھمپوری کی موجودگی میں ہوا ۔ اِس موقعہ پر صدر ڈوگری سنستھا جموں پروفیسر للت مگوترا اور پروفیسر وینا گپتا او ر سیکرٹری جیکے اے سی ایل بھارت سنگھ بھی موجود تھے۔سیکرٹری ثقافت ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے اَپنے خطاب میں معاشرے کی تشکیل کے لئے اَدب کی طاقت کے بارے میں اَپنے خیالات کا اِظہار کیا اور ا ِس بات پر زور دیا کہ ہرقسم کے اَدبی کاموں میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور وہ معاشرے کے تمام عمر کے گروپوں اور طبقات کو منتقل کرسکتے ہیں۔سیکرٹری موصوف نے لوگوں بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اَپنی اَپنی مادری زبانوں پر فخر کریں اور ان کا کثرت سے استعمال کریں۔ اُنہوں نے سماجی مسائل کی طرف توجہ دِلانے اور عوامی گفتگو شروع کرنے میں اَد ب کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے جموںوکشمیر کی ڈوگری ، ڈوگرہ ثقافت اور دیگر ثقافتوں کے احیاء اور فروغ کے لئے حکومت کے عزم کا اِظہار کیا۔ اُنہوں نے اِس مقصد کے حصول کے لئے ضروری فنڈز اور اِنفراسٹرکچر فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹس ، کلچر اینڈ لنگویجز کو خطے کی ثقافتوں کو زندہ رکھنے میں اس کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔سیکرٹری ثقافت نے نوجونواں کو اَپنی ثقافت کی طرف راغب کرنے کے لئے ڈیجیٹل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارم کے استعمال کی حوصلہ اَفزائی کی۔ اُنہوں نے اَدب کا مطالعہ کرنے کے لئے نوجوانوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔پروفیسر وینا گپتا نے کلیدی خطبہ دیا جس میں اُنہوں نے جموںمیں ثقافتی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کے لئے اکیڈمی کی سراہنا کی ۔اُنہوں نے اَپنی ثقافت اور شناخت پر زور دینے کی ضرور ت پر روشنی ڈالی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ آنے والے نسلوں تک پہنچ جائے۔پروفیسر للت مگوترا نے کہا کہ ثقافت کو زندہ رکھنے میں زبانوں کا اہم کردار ہے اور ان کی موت ثقافت کے خاتمے کا باعث بنتی ہے ۔اُنہوں نے ڈوگری اور جموںوکشمیر کی دیگر سرکاری زبانوں کے اِستعمال میں اِضافے کی بھی وکالت کی۔پدم شری جتندر اودھمپور ی نے نوجونوں اور بچوں کو زبان کی طرف راغب کرنے کے لئے ڈوگری میں جدید مواد تیار کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے اِس مقصد کے لئے میگزین اور کارٹون سیریز وغیرہ لگانے کا مشورہ دیا۔سیکرٹری جے کے اے اے سی ایل بھارت سنگھ نے خطبہ اِستقبالیہ دیا جنہوں نے اَپنے مواد سے عوامی جذبات کی نمائندگی کرنے پر شعراء کا شکریہ اَدا کیا۔بعد میں کھجور سنگھ اینڈ پارٹی کی طرف سے لوک رقص گیترو کی پروفامنس پیش کی گئی۔ایڈیشن سیکرٹری جے کے اے اے سی ایل ڈاکٹر ارویندر سنگھ امن نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور اِفتتاح سیشن کی نظامت کے فرائض ایڈ یٹر ڈوگری جے کے اے اے سی ایل ڈاکٹر رتن بسوترا نے اَنجام دی۔