اِس اقدام سے جموںوکشمیر یوٹی میں 2,000 کسان خدمت گھر بنانے کا تصور کیا گیا ہے
جموں//حکومت جموں وکشمیر نے جموںوکشمیر یوٹی میں دیرپا زراعت کو بڑھاتے ہوئے ’’ جموں وکشمیر میں زراعت کے احیاء کے لئے اِختراعی اپروجز ‘‘ پر پانچ سالہ پروجیکٹ کو منظور ی دی ہے۔اِس منصوبے کی مالیت 463کروڑ روپے ہے جس کا مقصد کسانوں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی اور جامع زرعی توسیعی خدمات سے بااِختیار بنا نا ہے۔اِس منصوبے کے اہم نتائج میں سے 2,000 کسان خدمت گھر ( کے کے جیز) کا قیام ہوگا جو کسانوں پر مبنی خدمات کی توسیع کے لئے وَن سٹاپ سینٹر کے طور پر کام کرے گا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو نے کہا،’’ جموںوکشمیر میں توسیعی نظام کو بہت سے چیلنجوں کاسامنا ہے بشمول ساختی پیچیدگی اور فعال تنوع سے بڑے گاہکوں کی خدمت کرنا ہے۔فی الحال ایکسٹینشن ورکروں اور کسانوں کے درمیان ایک خاص فرق ہے جس کا تناسب 1100 1:ہے۔‘‘پروجیکٹ کا مقصد فارم پر مرکوز منصوبہ بندی اور وسائل کی تخصیص کے لئے آئی او ٹی کے قابل رئیل ٹائم بگ ڈیٹا کا اِستعمال کرتے ہوئے ایک متحرک زرعی توسیعی نظام تیار کرکے ان مسائل کا حل کرنا ہے ۔یہ ٹیکنالوجی سے چلنے والا نظام کلسٹر اپروچ سے ایک فعال زرعی توسیعی نظام کی بنیاد بنائے گا۔یہ نقطہ نظر آب و ہوا اور زرعی ماحولیات کی معلومات کے مناسب وقت کے علاقائی تجزیہ کا اِستعمال کرے گا تاکہ زرعی موسمی حالات کے تحت مخصوص زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔ان 29 منصوبوں میں سے ’’جموںوکشمیر میں زراعت کے احیاء کے لئے اِختراعی توسیع نقطہ نظر ‘‘ ایک ہے جنہیں جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی کی سفارش کے بعد منظوری دی تھی۔اِس باوقار کمیٹی کی سربراہی سابق ڈی جی آئی سی آے آر ڈاکٹر منگلا رائے کر رہے ہیں او راس میں زراعت ، منصوبہ بندی ، شماریات اور اِنتظامیہ کے شعبوں میں سی اِی او این آر اے اے اشوک دِلوائی ،سیکرٹری این اے اے ایس ڈاکٹر پی کے جوشی ، باغبانی کمشنر ایم او اے اور ایف ڈبلیو ڈاکٹر پربھات کمار ، سابق ڈائریکٹر آئی اے آر آئی ڈاکٹر ایچ ایس گپتا ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو کے علاوہ جموںوکشمیر یوٹی کی دونوں ایگری کلچر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلردیگر نامور شخصیات ہیں۔اِس منصوبے میں زرعی جی ڈی پی میں نمایاں اِضافے سے دیرپا اور منافع بخش زراعت کو فروغ دینے کا تصور کیا گیا ہے ۔ اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پروجیکٹ 2000 پنچایت سطح کے کسان خدمت گھر قائم کرے گا۔بلاک سطح کی توسیعی مشاورتی کمیٹی کوبحال کرے گا او رکرشی وگیان کیندر ( کے وی کے ) کو ضلعی سطح پر خدمات کے ایک مرکز کے طورپر فروغ دے گا۔ یہ پروجیکٹ سکاسٹ کشمیر اورجموں میں کاروباری واقفیت کے مراکز بھی قائم کرے گا اور سائبر توسیع سے مناسب وقت میں مسائل کے اَزالے کی سہولیت فراہم کرے گا جس میں آر ایس ۔ جی آئی ایس سے چلنے والی ایگروایڈ وائزریز اور آئی سی ٹی پر مبنی ورچیول رابطوں اور مواصلاتی نظام شامل ہیں۔کسان خدمت گھر کسانو ں کے لئے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں سے متعلق خدمات تک رَسائی کے لئے وَن سٹاپ سینٹر ہوگا۔ یہ جدید آئی سی ٹی ٹولز سے ایک علمی مرکز کے طور پر کام کرے گا جس میں ایک کیوسک بھی شامل ہے تاکہ مختلف معلومات جیسے اِن پُٹ سپلائی ، ٹیکنالوجی ، مارکیٹنگ اور مزید تک براہِ راست رَسائی فراہم کی جاسکے ۔ کے کے جی ویلیو چین کو مؤثر اور معاشی طور پر منظم کرنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ایک پلیٹ فارم ہوگا ۔ ہر کسان خدمت گھر کے پاس ایک تکنیکی سہولیت کار ہوگا جو کاشت کاروں کو معمولی چارجز پر خدمات فراہم کرے گا۔یہ منصوبہ خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور جواب دہی کو برقرار رکھنے اور پیرنٹ محکموں اور اِنتظامیہ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لئے ایک مضبوط ایم آئی ایس سسٹم بھی بنائے گا۔ کے کے جی پبلک ۔پرائیویٹ ۔ پنچایت شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے پنچایت کے ساتھ قریبی تال میل میں کام کرے گا۔ کے کے جی کے کلیدی کاموں میں زراعت اور متعلقہ شعبوں میں براہِ راست خدمات کا نفاذ ، اِن پُٹ بکنگ / ڈیلیوری ، مارکیٹ اِنٹلی جنس خدمات ،کپسٹی بلڈنگ اینڈ سکل ڈیولپمنٹ، کسٹم ہائرنگ سروسز میں سہولیت فراہم کرنا اور پالیسی پلاننگ کے لئے بنیادی معلومات پیدا کرنا اور بلاک اور اعلیٰ سطح پر آپریشنل سکیموں کا جائزہ شامل ہوگا۔یہ پروجیکٹ ایگری نالج سسٹم ( جے کے ایگری سٹیک پلیٹ فارم ) کی بنیاد پر رقبہ اور اجناس کے مخصوص توسیعی طریقوں سے ’’ منافع کے لئے پیداوار ‘‘ زراعت کی جامع منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر توجہ مرکوز کرے گا۔ یہ منافع بخش زراعت کو فروغ دینے کے لئے شراکتی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے لئے فعال توسیعی وسائل او رنقطہ نظر کو یکجا کرے گا۔ یہ بہتر زرعی توسیعی خدمات بھی فراہم کرے گا جس میں پوری ویلیو چین میں کامل آئوٹ ریچ ، متحرک رابطے اور رئیل ٹائم ریسورس پرسن کلائنٹ کی بات چیت ہوگی ۔ اِس کے علاوہ پروجیکٹ زرعی توسیع میں کپسٹی بلڈنگ ، کاروباری اور روزگار پیدا کرنے کے لئے سکل ڈیولپمنٹ پر توجہ مرکوز کرے گا۔دریں اثنا، یہ پروجیکٹ صلاحیت سازی کے پروگراموں کو بھی نئے سرے سے ترتیب دے گا اور ثانوی زراعت کو بعد اَز فصل اور غیر کاشت کی سرگرمیوں سے فروغ دے گا جو بہتر منافع حاصل کرنے کے لئے بنیادی توجہ کا مرکز ہے ۔ اِس میں زرعی کاروبار ، مارکیٹنگ ، ثانوی زراعت اور غیر فارمی سرگرمیوں کی تربیت شامل ہوگی ۔ یہ ایک ’’ ایگری ایکسٹینشن کلب‘‘ تشکیل دے گا جو باقاعدہ آن لائن ایکسپرٹ ایکسٹینشن لیکچر سیریز ( اِی اِی ایل ایس ) کو فروغ دے گااور کسانوں او رنوجوانوں کو منافع بخش زراعت ، اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ ، ایگری بزنس سٹارٹ اپس ، روزگار پیدا کرنے اورلائیو لی ہڈ کی حفاظت کے لئے مشن موڈ میں ہنر مند بنائے گا۔یہ پروجیکٹ پی پی پی کے توسیعی نظام اور یوٹی سطح پر خدمات فراہم کرنے والوں کی ایکریڈیٹیشن کو بھی نتائج سے منسلک ترغیبات کے ساتھ ہم آہنگ کرے گا۔ یہ فزیکل اور اِی۔ مارکیٹ کے لئے دیرپا مارکیٹ روابط قائم کرے گا اور ثانوی زراعت کو فروغ دے گا۔ پروجیکٹ میں میکانائزیشن ، آٹومیشن او رڈیجیٹل زراعت ، بیداری پروگراموں اور فارم مشینری کی خدمات میں کاروبار کو بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔یہ منصوبہ توسیع ، ٹیکنالوجی اور سروس کے فرق ، ٹیکنالوجی کو اَپنانے اور اثرات کی تشخیص میں تحقیق کو فروغ دے گا۔ یہ باٹم اَپ اپروچ اِستعمال کرے گا ۔ اِس منصوبے کا مقصد ایک سمارٹ ٹیکنالوجی پر مبنی بہتر اختراعی ، قابل عمل اور جامع زرعی توسیع کی خدمات کو فروغ دینا ہے جو کسانوں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملک میں زرعی شعبے کی دیرپا ترقی کا احساس کرنے کے لئے بااختیار بناتی ہے ۔کسانوں کو جدید آلات اور تکنیکوں تک رَسائی فراہم کر کے ، یہ منصوبہ زرعی پیداوار میں اِضافہ اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے ساتھ ساتھ غربت میں کمی اور دیرپا ترقی کو فروغ دینے کی اُمید رکھتا ہے ۔بالآخیر ، زرعی توسیعی خدمات کے لئے ایک سمارٹ ، ٹیکنالوجی پر مبنی نقطہ نظر کا نفاذ کسانوں تک معلومات اورمدد تک رسائی کے طریقے میں اِنقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ آئی او ٹی سے چلنے والے بڑے ڈیٹا سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ پروجیکٹ مناسب وقت میں اَپنی کوششوں کے اَثرات کی پیمائش کرسکتا ہے اور مستقبل میں فیصلہ سازی کے لئے قابل قدر بصیرت فراہم کرتا ہے ۔اِس کے نتیجے میں یہ منصوبہ خوراک کی حفاظت ، غربت میں کمی اور دیرپا ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے دیرپا ترقیاتی اہداف کے حصول میں نمایاں کردار اَدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔










