پرنسپل سیکرٹری جنگلات نے جنگلی حیات کے جرائم پر ایک ورکشاپ کی صدارت کی

جموں//پرنسپل سیکرٹری جنگلات وماحولیات دھیرج گپتا نے آج جنگلی حیات کے جرائم پر ایک ورکشاپ کی صدارت کی۔محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ میں آج یہاں کنونشن سینٹر میں پولیس، کسٹمز، کرائم برانچ، فارسٹ پروٹیکشن فورس، فارسٹ ٹیریٹوریل اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ سمیت مختلف متعلقہ محکموں نے شرکت کی۔پرنسپل سیکرٹری نے اپنے خطاب میںشراکت دار ایجنسیوں کے درمیان مضبوط تال میل پر زور دیا اوراُنہوں نے کہا کہ ماحولیات اور جنگلی حیات کا تحفظ ہمارا آئینی فرض ہے۔ انہوں نے فرنٹ لائن فیلڈ کے شرکأ پر زور دیا کہ وہ مکمل کیسز تیار کریں تاکہ جنگلی حیات کے جرائم اور جنگلی حیات کی ممنوعہ اشیاء کی غیر قانونی تجارت میں ملوث مجرموں کو مجاز عدالتوں سے قانون کے تحت سزا دی جائے۔ اُنہوں نے اس خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے قابل اعتماد نیٹ ورک بچھانے، ٹیکنالوجی کے استعمال اور اِنٹلی جنس جمع کرنے پر زور دیا۔پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ اینڈ ایچ او ایف ایف ڈاکٹر موہت گیرا نے اَپنے خطاب میں انڈیا اور جموںوکشمیر کی منفرد حیاتیاتی تنوع کا ذکر کیا ۔ اُنہوں نے شرکأ پر زور دیا کہ وہ جنگلی حیات اور جنگلات کے جرائم سے متعلق تفتیش اور کیس فریمنگ کے حوالے سے قانونی فریم ورک کی مناسب تفہیم کریں ۔اُنہوں نے فارسٹ چیک پوسٹوں اور جوائنٹ کنٹرول رومز کا بہترین اِستعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا۔اِس سے قبل پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ ( وائلڈ لائف) ،چیف وائلڈ لائف وارڈن سریش کمار گپتا نے اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں ورکشاپ کے مقاصد اور دائرہ کار پر روشنی ڈالی ۔ اُنہوں نے ملک میں جنگلی حیات کے جرائم کا منظرنامہ پیش کیا اور جموںوکشمیر کی صورتحال بھی پیش کی۔ریجنل وائلڈ لائف وارڈن جموں ڈاکٹر کمار ایم کے نے ورکشاپ کی نظامت کے فرائض انجام دی اور شکریہ کی تحریک پیش کی۔شرکأ میں شراکت دار محکموں کے اِنسپکٹر اور اس سے اوپر رینک کے اَفسران شامل تھے۔ اِس کے علاوہ ورکشاپ کے لئے ریسورس پرسن مرکزی وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو کے ماہرین تھے ۔