Govt approves Rs 30.40 crore project 'Sensor-based Smart Agriculture' for Jammu and Kashmir farmers

حکومت نے جموں و کشمیر کسانوں کیلئے 30.40 کروڑ روپے کے پروجیکٹ’’ سینسر پر مبنی سمارٹ ایگری کلچر ‘‘ کو منظوری دی

جموں//حکومت جموںوکشمیر نے ایک اہم 30.40 کروڑ روپے کا پروجیکٹ ’’ سینسر پر مبنی سمارٹ ایگری کلچر‘‘ کی منظوری دی ہے جس میں ٹیکنالوجی سے زراعت کے انضمام، مصنوعی تخم ریزی اور آئی او ٹی کے ذریعے چلائی جانے والی ٹیکنالوجی کے طریقوں کو خود کار بنانے ، وسائل کے اِستعمال کی کارکردگی اور منافع میں اِضافہ کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ جس کا مقصد ’’ سینسر پر مبنی سمارٹ ایگری کلچر ایکو سسٹم ‘ قائم کرنا ہے اور خطے کی زرعی معیشت کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔اے آئی اور آئی او ٹی کے ذریعے چلنے والی ٹیکنالوجی سے زراعت کا اِنضمام ،زراعت کو دِلکش ، پیشہ ورانہ اور مسابقتی بنائے گا۔یہ منصوبہ آئی او ٹی کے اطلاق او رپودوں کے مائیکرو کلیمیٹنگ پیرامیٹرز کی نگرانی کے لئے آٹو میشن کے استعمال سے سال بھر میں نقد فصلوں کی کاشت کے لئے ہائی ٹیک پولی ہائوسز کے کو قابل بنائے گا۔گرین ہائوس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ ہوگااور کھلے میدان کے حالات کے مقابلے میں سبزیوں کی ابتدائی پیداوار یا دیر سے دستیابی کے طور پر دستیابی کو ممکن بنایا جائے گا۔دُنیا کی آبادی غیر معمولی شرح سے بڑ ھ رہی ہے اور اِس کے نتیجے میں خوراک کی پیداوار کو بڑھانے کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اِس سے زرعی صنعت پر پیداواری صلاحیت اور پیداوار بڑھانے کے لئے بہت زیادہ دبائو پڑا ہے۔اِنڈیا کے جی ڈی پی میں زراعت زائد اَز 17 فیصد کا حصہ اَدا کرتی ہے اور ملک کی 54 فیصد سے زیادہ آبادی کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ جموںوکشمیر میں معیشت کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت پر مبنی ہے جو ڈیجیٹل زراعت کو اَپنانے سے اِن پُٹ کے اِستعمال کی کارکردگی ، پیدوار،پیداواری صلاحیت اورمنافع میں اِضافہ کرنے کے ذریعے معاش کو بہتر بنانے کا ایک اہم علاقہ بناتا ہے۔روایتی زرعی طریقوں میں مشقت اور اِن پُٹ بہت زیادہ ، کم معاوضہ اور موسم کی تبدیلیوں کے لئے حساس ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان کم ریٹرن ، بے یقینی اور محنت کی وجہ سے زراعت چھوڑ رہے ہیں ۔ ٹیکنالوجی بالخصوص اے آئی اور آئی او ٹی کو زراعت میں شامل کرنے میں کم کارکردگی ، منافع اور مسابقت جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت ہے ۔ یہ صنعت کے لئے زیادہ پُر کشش اور پیشہ ورانہ امیج کا باعث بن سکتا ہے۔جموںوکشمیر کی زرعی معیشت کے لئے سینسر پر مبنی سمارٹ ایگری کلچر کا یہ پروجیکٹ ایک تبدیلی کی اِختراع ثابت ہوسکتا ہے ۔ اعلیٰ کثافت والے سیب باغات ، محفوط کاشت کاری اور سمارٹ لائیو سٹاک فارمنگ کے لئے سینسر پر مبنی پائلٹ کا مطالعہ کیا جائے گا۔اِس کا مقصد وسائل کے اِستعمال کو بڑھانا ، کارکردگی کو 80 فیصد تک بڑھانا اور ایپل ، سبزیوں اور مویشیوں کے ایچ ڈی پیز میں درستگی سے زرعی کاموں کو خود کار بنانا ہے۔ہینڈ ہیلڈ سینسر ڈیوائسز کا اِستعمال کرتے ہوئے کیڑوں اور بیماریوں کا اے آئی پر مبنی پتہ لگانے کے اِستعمال سے 20فیصد تک محنت اور کاشت کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے ۔ پروجیکٹ کا مقصد آئی اوٹیز کے ریموٹ آپریشنز کے لئے بڑے ڈیٹا اینالیٹکس کے لئے الگورتھم تیار کرنا اور آئی آئی ٹیزاور صنعتوں کے ساتھ ورکنگ سے سمارٹ ایگر ی کلچر میں ایک سٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بنانا ہے ۔ اے ایل اینڈ ایم ایل ، آئی او ٹی ، آٹومیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی میں سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کورسز شروع کئے جائیں گے تاکہ صنعت میں درکار نئے سکل سیٹس کے لئے ہنر مند افرادی قوت کو تربیت دی جا سکے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے کہا،’’ اِس منصوبے کا نتیجہ وسائل کے اِستعمال کی کارکردگی میں 50سے80فیصد کا اِضافہ ، سیب کی سینسر پر مبنی درجہ بندی اورچھانٹنے کے نظام کی ترقی اور کیڑوں اور بیماریوں کے اِنتظام کے لئے ڈیسیکشن سپورٹ سسٹم ( ڈی ایس ایس) کی ترقی ہوگی۔روبوٹکس اور ڈرون کا کا اِستعمال کرتے ہوئے بروقت کا پتہ لگانے او رمتغیر شرح کے سپرے سے پیداواری لاگت میں 80فیصد کمی آئے گی ۔ اِس تجویز کا مقصد مویشیوں، فینو ٹائپنگ اورپیداوار کی پیش گوئی کے لئے ایک سینسر کو ریڈ ور بنانا بھی ہے ۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ تربیت یافتہ اَفرادی قوت جو آئی او ٹی ، اے آئی اور ایم ایل شعبوں میں گریجویٹ ، سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما ہولڈروں پر مشتمل ہے ، سنسر پر مبنی زرعی نظام میں ایک نیا سٹارٹ اَپ کلچر تشکیل دے گی۔یہ پروجیکٹ ان 29پروجیکٹوں میں سے ایک ہے جنہیں جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں و کشمیریوٹی میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی کی سفارش کے بعد منظوری دی تھی۔مویشیوں کی پرورش اِس وقت ناقص ماحولیاتی پناہ گاہوں میں کی جاتی ہے ۔ اِس لئے شیڈ کے ماحول کے لئے سینسر پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم اور شناخت کے لئے پشوئوں کی ٹیگنگ کے لئے آٹو مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے ۔تھرمل / پیڈو سینسر پر مبنی حرارت کا پتہ لگانے اور آئی او ٹی پر مبنی سینسر کو فینو ٹائپنگ اور ہیلتھ مینجمنٹ اور مویشیوں کی پیداوار کی پیشن گوئی کے لئے اِستعمال کیا جاسکتا ہے۔زراعت میں ڈیجیٹل تبدیلی 2024ء تک پیداوار میں 60فیصد اِضافے کے چیلنج کو کم کرنے کے لئے ممکنہ شعبوں میں سے ایک ہے تاکہ مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو پورا کیا جاسکے۔ایگری ٹیک میں سرمایہ کاری 2015 ء میں 4.6بلین ڈالر تک پہنچ گئی ۔حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس شعبے کی ترقی ناگزیر ہے۔تاہم ابھی بھی ایسے چیلنجر موجود ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ڈیجیٹل تبدیلی زراعت میں نمایاں اَثر ڈال سکتی ہے۔بنیادی رُکاوٹوں میں سے ایک بہت سے دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اِنفراسٹرکچر تک رَسائی کا فقدان ہے جو ایک اہم مسئلہ ہے جس پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔اِس مسئلے پر قابو پانے کے لئے حکومتوں اور نجی اِداروں کو دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے تک سستی رسائی فراہم کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ زرعی شعبے کی مجموعی ترقی سمارٹ وِلیج کی ترقی کے لئے کام کرسکتی ہے۔کسانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل اِنفراسٹرکچر تک رَسائی فراہم کر کے وہ اَپنی پیداوار کو بہتر بناسکتے ہیں اور اَپنی پیداوار اور منافع میں اِضافہ کر سکتے ہیں۔مرکزی حکومت نے ڈیجیٹل ایگری کلچر مشن جیسے متعدد اقدامات شروع کئے ہیں جس کا مقصد ملک کے تمام 600,000گائوں میں ڈیجیٹل فراہم کرنا ہے۔مزید برآں، کسانو ں کے لئے وسیع تربیت اور تعلیم کی ضرورت ہے تاکہ وہ ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور اسے زیادہ سے زیادہ پیداوار اور منافع کے لئے اِستعمال کرسکیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اَپنانے سے کسانوں کو ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنے اور ان کے کاشت کاری کے طریقوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ حکومت جموںوکشمیر نے صنعت میں درکار نئے ہنرمندوں کے لئے ہنرمند اَفرادی قوت کو تربیت دینے کے لئے اے ایل اینڈ ایم ایل ، آئی او ٹی اور آٹومیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی سر ٹیفکیٹ اور ڈپلوما کورسز شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ایک اور اہم چیلنج ٹیکنالوجی کی زیادہ قیمت ہے جو چھوٹے پیمانے پر کسانوں کے لئے رُکاوٹ بن سکتی ہے ۔ حکومتوں اور آرگنائزیشنوں کو سستی اور عملی ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے جو چھوٹے پیمانے پر کسانوں کو اَپنی پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد کرسکیں۔پردھان منتری فصل بیما یوجنا او رکسان کریڈٹ کارڈ سکیم جیسی سرکاری سکیموں کی عمل آوری کسانوں کو آلات اور ٹیکنالوجی کی خریداری کے لئے مالی مدد فراہم کرسکتا ہے ۔آخیر پر زراعت میں ڈیجیٹل تبدیلی خوراک کی پیداوار کے طریقے میں اِنقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اسے حقیقت بنانے کے لئے حکومتوں ، نجی آرگنائزیشنوں اور کسانوں کی جانب سے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔ زراعت میں ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی کی عمل آوری سے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہم اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرسکتے ہیںکہ ہم آنے والے برسوں میں خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرسکیں۔