سرینگر//ہریانہ میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں کو ایک گاڑی میں زندہ جلایا ہے جس کی وجہ سے علاقہ میں سنسنی اور خوف و دہشت کاماحول پھیل گیا ہے ۔ پولیس نے اس ضمن میں رپورٹ درج کرکے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق مہلوک کے بھائی اسماعیل نے راجستھان پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس نے بتایا کہ دونوں نوجوان بھرت پور کے پہاڑی تھانہ علاقہ کے رہنے والے جنید اور نثار ہیں۔ہریانہ کے بھوانی میں ایک خوفناک معاملہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جلی ہوئی بولیرو میں دو ہڈیوں کا ڈھانچہ ملا ہے جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ پولیس محکمہ کے کئی اعلیٰ افسران اور ایف ایس ایل کی ٹیم موقع پر پہنچ کر جانچ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جلی ہوئی بولیرو گاڑی میں نمبر پلیٹ بھی نہیں لگی ہوئی ہے، اس وجہ سے گاڑی میں ملے ہڈیوں کے ڈھانچے کی شناخت نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد جو کچھ سامنے آیا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔شروع میں پولیس یہ بھی نہیں بتا پا رہی تھی کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ خاتون کا ہے یا مرد کا۔ پولیس کی ٹیم گاڑی کی چیچس نمبر کی بنیاد پر بولیرو کا رجسٹریشن نمبر پتہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ موقع پر موجود پولیس افسر نے بتایا کہ جلی ہوئی گاڑی دیکھ کر مقامی لوگوں نے 112 ڈائل کر خبر دی تھی۔ اس کے بعد فورنسک ثبوت جمع کرنے کے لیے ایف ایس ایل کی ٹیم کو بلا لیا گیا تھا۔ اسی درمیان پولیس کے پاس مہلوکین کا چچیرا بھائی اسماعیل پہنچا اور اس نے واقعہ کی جانکاری دی۔ اس کے بعد پولیس کو معاملے کا پتہ چلا اور قتل کا کیس درج کیا گیا۔ادھر مقامی لوگوں نے بتایا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے اس گاڑی میں گائے کی تسکری کے الزام میں آگ لگائی تاہم گاڑی میں کوئی گھائے نہیں پائی گئی تھی ۔










