گلمرگ//مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان کیG20 صدارت عالمی سطح پر ملک کی بڑھتی ہوئی طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ G20 کی صدارت دنیا بھر میںملک کے امیج اور معیشت کو تقویت دے گی۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکرنے کہاکہ ملک کے55 شہر دنیا کے20 طاقتور ترین ممالک کے 200 اجلاسوں کی میزبانی کریں گے،اوریہ بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت ہے۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزیراطلاعات ونشریات نیز مرکزی وزیرمملکت برائے کھیل وامور نوجوانان انوراگ ٹھاکر نے سری نگر سے 55 کلومیٹر دور واقع مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کے تیسرے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 5روزہ ایونٹ میں ملک کی29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے1500 سے زیادہ کھلاڑی حصہ لیں گے۔انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ کھیل نہ صرف متحد کرنے والا پلیٹ فارم ہے بلکہ یہ ملک کی نرم طاقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ کھیل ایک نرم طاقت ہے۔ جب کوئی کھلاڑی بین الاقوامی تمغہ جیتتا ہے تو یہ ملک کو متحد کرتا ہے۔ نیرج چوپڑا کے گولڈ میڈل نے اولمپکس میں ایتھلیٹکس میں گولڈ میڈل کے لئے ہندوستان کا 121 سالہ انتظار ختم کردیا۔ اس سے ملک بھر میں تقریبات کا آغاز ہوا۔مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ گزشتہ سال ہندوستانی کھیلوں کیلئے بہت بڑا تھا کیونکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے اپنے کھیلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے پاس سمر اولمپکس اور پیرا اولمپکس میں سب سے زیادہ تمغے تھے۔ پی وی سندھو نے بیڈمنٹن میں بیک ٹو بیک اولمپک تمغے جیتے، جو کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔قبل ازیں، مرکزی وزیر نے 40 کھیلو انڈیا کھیلوں کے مراکز کا ای-افتتاح کیا جو جموں و کشمیر میں قائم ہوئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ فخر کا لمحہ ہے کہ جو کچھ دوسری ریاستیں نہیں کرسکیں، وہ جموں وکشمیرنے کیا ہے۔انوراگ ٹھاکر کاکہناتھاکہ جموں وکشمیر کے تمام اضلاع میں ایک انڈور اسٹیڈیم ہیں اور پورے یوٹی میں کھیل کے میدان بن چکے ہیں۔مرکزی وزیرمملکت برائے کھیل وامور نوجوانان انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ کھیلوں کے بڑے مراکز قائم ہوں تاکہ ملک کے کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ منی پور میں ایک اسپورٹس یونیورسٹی بن رہی ہے اور گلمرگ میں جلد ہی سرمائی کھیلوں کا ایک مرکز قائم کیا جائے گا۔موصوف وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پچھلے تین سالوں میں صورتحال کافی حد تک بدلی ہے۔انہوںنے کہاکہ وہ جگہیں جہاں پتھراؤ عام تھا، اب ہمارے پاس کھیل پھل پھول رہے ہیں اور اُبھرتے ہوئے کھلاڑی نظر آتے ہیں۔انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ اگر آپ رات کو روشنیاں دیکھیں گے تو آپ کو کشمیری نوجوان اپنے کھیلوں کی مشق کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس طرح جموں و کشمیر میں صورتحال کتنی بدلی ہے۔انوراگ ٹھاکر نے جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں کے کھلاڑیوں کو ہر طرح کی حمایت کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم آپ کی حمایت جاری رکھیں گے۔ آپ کو سہولیات، کوچز یا فنڈز کی ضرورت ہے، ہم فراہم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے سال جموں و کشمیر میں ریکارڈ توڑ سیاحوں کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف وزیر نے کہا کہ اس شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو سیاحوں کی تعداد بڑھانے کے لیے اختراعی ہونا پڑے گا۔انوراگ ٹھاکر کاکہناتھاکہ اسنو کرکٹ ایک اختراع ہو سکتی ہے جو کشمیر میں سیاحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔










