جموں وکشمیر نے لینڈ اینڈ سوئیل مینجمنٹ کیلئے ایک اہم پروجیکٹ کا آغاز کیا

جموں//حکومت جموںوکشمیر نے ایک نئے پروجیکٹ کو منظوری دی ہے جس کا مقصد ایک جامع سوئیل اینڈ لینڈ ریسورس معلومات کا نظام بنانا ہے ۔ یہ پروجیکٹ جسے جے اینڈ کے سوئیل اینڈ لینڈ ریسورس اِنفارمیشن سسٹم ( جے کے ایس ایل آر آئی )کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہ پروجیکٹ اِس خطے میں لینڈ اینڈ سوئیل ریسورس کے دیرپا اِستعمال کے لئے فیصلہ سازی میں مدد کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے ماحولیاتی لحاظ سے کمزور سمجھا جاتا ہے ۔فصلوں کے تنوع اور مٹی کی مناسبت کے لئے سائنسی بنیاد فراہم کرنے کے اَپنے ہدف سے جے کے ایس ایل آر آئی پروجیکٹ خطے میں زمین کے استعمال اور سوئیل مینجمنٹ کے طریقے میں اِنقلاب لائے گا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو نے کہا،’’ غیر سائنسی زمین کی تبدیلی اور سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ کے کمزور طریقوں کا مسئلہ سوئیل ہیلتھ میں کمی کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے پیداوار خراب ہو رہی ہے او ریہاں تک کہ اِنٹرپرائز کی ناکامی بھی ہے۔ سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ کے بار ے میں علم کی کمی او رناقص توسیع بھی ہے جو شدید کاشت اور مٹی کی آلودگی کی وجہ سے مٹی کی حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ جے کے ایس ایل آر آئی پروجیکٹ کو مٹی اور زمینی وسائل کے بارے میں سب سے زیادہ جامع او رتازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا جب یہ سوئیل اینڈ لینڈ ریسورس کے دیرپا استعمال کی بات آتی ہے تو اسے فیصلہ سازی کے لئے ایک لازمی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔جے کے ایس ایل آر آئی پروجیکٹ جو ابتدائی طور پر جموں وکشمیر کے چار اَضلاع میں شروع کیا جائے گا ۔ اس کے کئی مقاصد ہیں جن میں زراعت اور شہری کاری پر زمین کے اِستعمال کی ایک مضبوط پالیسی کی تشکیل ، زمین کی تشخیص پر مبنی فصلوں کی زمین کی ایوالویشن ، سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ میں کسانوںاور شراکت داروں کی استعداد کار میں اِضافہ اور ہر منتخب ضلع میں ایک جامد اور 25 منی مٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام شامل ہیں۔اِس منصوبے سے خطے میں بہت بڑا اثر پڑے گا جس میں جموں اور سری نگر میں دو دو مٹی کے عجائب گھروں، ایک مستند مٹی اور سوئیل اینڈ لینڈ ریسورس کے ذخیرے کی تشکیل بھی شامل ہے ۔یہ منصوبہ کھادوں اور مائیکرو نیوٹرینٹس کے مؤثر اِستعمال کے لئے بھی مدد فراہم کرے گا جوکہ نامیاتی پیداواری نظام کے لئے اہم ہے ۔ یہ مقاصد زراعت اور شہری کاری کے لئے ایک مضبوط زمینی استعمال کی پالیسی کی بنیاد رکھنے میں مدد کریں گے ۔’’پلاننگ اینڈ سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ کے لئے جموںوکشمیر سوئیل اینڈ لینڈ ریسورس انفارمیشن سسٹم ( جے کے ایس ایل آر آئی ) تیار کرنا ‘‘ان29 منصوبوں میں سے ایک ہے جسے جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی کی طرف سے جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی جامع ترقی کی سفارش کے بعد منظور ی دی تھی۔اِس باوقار کمیٹی کی سربراہی سابق ڈی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلا رئے کر رہے ہیں اور اس میں زراعت ، منصوبہ بندی ، شماریات اور سی اِی او این آر اے اے اشوک دِلوائی ، سیکرٹری این اے اے ایس ڈاکٹر پی کے جوشی ، ہارٹی کلچر کمشنر ایم او اے اور ایف ڈبلیو ڈاکٹر پربھات کمار ،سابق ڈائریکٹر آئی اے آر آئی ڈاکٹر ایچ ایس گپتا ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اے پی ڈی اَتل ڈولو دونوں ایگری کلچر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور اِنتظامیہ شعبے میں دیگر نامور شخصیات ہیں۔اِس منصوبے کے کئی مراحل میں مکمل کیا جائے گا جس کا آغاز مٹی کے گہرے سروے ، مٹی نمونے لینے اور تجزیہ سے ہوگا ۔ اِس کے بعد گرائونڈ ٹروتھنگ اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اِس منصوبے میں مٹی کی یک سنگی جمع کرنا او رمٹی کا تجزیہ ، پانی اورپودوں کے نمونوں کا تجزیہ بھی شامل ہوگا۔ اِن اقدامات کے نتیجے میں پنچایتی سطح پر ڈیٹا کی تیاری ، مٹی کی گہری نقشہ سازی ، ویب پر مبنی مٹی کی معلومات کے نظام کی تخلیق اور فصل کی مناسبیت اور متبادل زمین کے اِستعمال کے لئے زمین کی تشخیص ہوگی۔مٹی اور زمینی وسائل کے بارے میں سب سے زیادہ جامع اور تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے ذریعے جے کے ایس ایل آر آئی پروجیکٹ سے خطے پر اہم اثرات مرتب ہونے کی اُمید ہے۔ یہ سوئیل اور لینڈ ریسورس کا مستند ذخیر ہ بنائے گا اور معلومات کو سب کے لئے قابل رسائی بنائے گا ۔ زراعت اور شہری کاری سے متعلق پالیسی آنے والی نسلوں کے لئے ایک دیرپا ماحولیاتی نظام کو یقینی بنائے گی جبکہ کھادوں اور مائیکرو نیوٹرینٹس کا مؤثر اِستعمال نامیاتی پیداوار کی بنیاد رکھے گا ۔ یہ منصوبہ نہ صرف غذائی تحفظ اور دیرپا ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے اہم ہے بلکہ ہی زرعی شعبے میں جدید اور مستقبل کے لئے تیار ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کے لئے حکومت کے عزم کا بھی ثبوت ہے۔اِس منصوبے سے کسانوں ، محققین ، نیچرریسورس منیجرز اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے لئے دُور رَس فوائد ہوں گے۔