سری نگر//جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے آری گام نامی گائوں میں پینے کے پانی کی شدیدقلت سے آبادی کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لوگوں نے بتایا گائوں میں وسیع آبادی کے لئے اب محکمہ نے2پبلک پوسٹ لگائے ہیں جو وسیع کے لئے ناکافی ہے ۔لوگوں نے بتایا سرکار نے ایک سکیم کے لئے ساڑے تین کروڑ روپے واگزار کئے ہیں تاہم بستی میں ابتدائی کام کے بعدکوئی بہانہ کر کے کام کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بستی کے لوگ شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق قصبہ ترال سے قریب2کلو میٹر دور آری گام نام گائوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا ان کے گائوں میں پینے کے پانی کی عدم موجود گی کے باعث انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لوگوں نے بتایا جس ترسیلی لائن سے انہیں پانی فراہم کیا جاتاہے وہ قریب60سال پہلے نصب کی گئی ہے جو انتہائی زنگ آلودہ ہے انہوں نے بتایا اس مضر صحت پانی کی سپلائی سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں لوگوں نے الزام لگایا کہ 7افراد گائوں میںایک خطر ناک بیماری میں اس وقت مبتلا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مضر صحت پانی کی وجہ سے بیماری نے اپنی لپیٹ میں کیا ہے جس کے بعد لوگوں نے مکمل طور پر یہ پانی استعمال کرنا ترک کیا ہے ۔لوگوں نے بتایا اس کے بعد محکمہ گائوں میں دو مقامات پر دو پوسٹ رکھے جو وسیع آبادی کے لئے نا کافی ہے انہوں نے بتایا جب تک لوگ انتظار کرتے ہیں تب تک پانی کی سپلائی بند ہوتی ہے ۔ لوگوں نے بتایا سرکار نے بستی کے لئے ایک اسکیم کی نشان دہی شریف آباد ترال کے نذدیک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لئے سرکارنے قریب3.5کروڑ کی رقم بھی واگزار کی ہے اورایک ٹھیکہ دار نے کام بھی شروع کیا ہے اور یہ سکیم گراونڈ واٹر شعبہ بنا رہا تھا ۔انہوں نے بتایا جب ٹھیکہ دار نے ابتدائی کام شروع تو انہوں نے بتایا کہ جن پائپوں کو زمین میں ڈال دیا گیا ہے اور زیر زمین پانی نے اپنے ساتھ بہا لیا ہے اس طرح سے ٹھیکہ دار کے حساب سے یہاں سکیم تعمیر نہیں ہوسکتی ہے جبکہ لوگوں کے مطابق یہ ایک بہانہ تھا اس طرح سے مزکورہ ٹھیکہ دار سرکار سے ابتدائی کام رقم مانگ رہا ہے جو واگزار نہیں ہوا اور دوسرا کوئی ٹھیکہ دار نئی ٹنڈر میں حصہ نہیں لیتا ہے ۔اس طرح سے رقم موجود ہونے کے باوجود محکمہ اور ٹھیکہ دار کی رسہ کشی کے باعث آبادی کو تکلیف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ سرکاری اسکیموں کو زمینی سطح پرجان بوجھ کرناکام بنایا جارہا ہے انہوں نے اس حوالے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے،۔










