سرینگر///مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون کریں ۔ امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیات میں ملک نے ترقی کے کافی منازل طے کئے ہیں جبکہ ملک گیارہویں نمبر سے ہوکر دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت کے طور پر اُبھرا ہے ۔ امت شاہ نے کہا کہ آئی آئی ٹی کی تعداد 16 سے بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، آج یہاں 20 آئی آئی ایم ہیں، ایمز سات سے بڑھ کر 22 ہو گئی ہے اور یونیورسٹیوں کی تعداد 723 سے بڑھ کر 1043 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں کو یہاں اپنے کیمپس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔سی این آئی کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ 2027 تک ہندوستان کو دنیا کا نمبر ایک ملک بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔آج ہبلی میں بی وی بھومرادی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی پلاٹینم جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیریئر کی ترقی کے ساتھ ساتھ، نوجوانوں کو ہندوستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے ایک ہدف طے کرنا چاہیے۔ یہ کہتے ہوئے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہندوستان کو سب سے اوپر دیکھنے کا خواب ہے، شاہ نے کہاکہ ہندوستان کو 2025 تک پانچ ٹریلین کی معیشت بننا چاہیے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم ایک مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2014 میں 11 ویں سب سے بڑی معیشت سے آج ملک پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے، 2014 میں صرف تین یونیکورنز کے ساتھ ہندوستان نے 70,000 اسٹارٹ اپ شروع کرکے ایک چھلانگ لگائی ہے اور یونیکورنز کی تعداد 75 سے تجاوز کر گئی ہے، انہوں نے مزید یہ کہتے ہوئے کہ وہ دھارواڑ میں فرانزک سائنس یونیورسٹی کی بنیاد رکھیں گے۔ شاہ نے کہاکہ یہ ہندوستان کا ساتواں کیمپس ہوگا جو فارنسک سائنس کے شعبے میں افرادی قوت پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ہندوستان اب مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2013-14 میں تحقیق کے لیے صرف 3000 درخواستیں موصول ہوئیں اور صرف 211 پیٹنٹ موصول ہوئے۔ لیکن آج تحقیقی درخواستوں میں ایک لاکھ تک اضافہ ہوا ہے اور 2021-22 کے دوران 24.000 پیٹنٹ دائر کیے گئے تھے۔ ہندوستان مصنوعی ذہانت، ڈرون، سیمی کنڈکٹرز اور خلا میں ترقی کر رہا ہے۔ کھیلو انڈیا اور فٹ انڈیا جیسے پروگرام نوجوانوں کو کھیلوں کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ آئی آئی ٹی کی تعداد 16 سے بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، آج یہاں 20 آئی آئی ایم ہیں، ایمز سات سے بڑھ کر 22 ہو گئی ہے اور یونیورسٹیوں کی تعداد 723 سے بڑھ کر 1043 ہو گئی ہے۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں کو یہاں اپنے کیمپس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔










