سری نگر//حکومت جموںوکشمیر اسپریشنل ٹاؤنز ڈیولپمنٹ پروگرام ( اے ٹی ڈی پی ) کے تحت اربن ریفارم انسینٹیو فنڈ ( یو آر آئی ایف ) کی شکل میں اِضافی گرانٹ اِن ایڈ سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی میونسپلٹیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی ۔ جموں و کشمیر کی میونسپلٹیوں کی درجہ بندی جموں اور کشمیر میونسپل ڈیولپمنٹ اِنڈکس ۔ 2022 ( جے اینڈ کے ایم ڈی آئی 2022 ء) کے تحت مقرر کردہ بینچ مارکس کے مطابق کارکردگی پر مبنی ہو گی ۔ ان میونسپلٹیوں میں صلاحیتوں کی تعمیر اور خلا کو پورا کرنے کیلئے خصوصی فنڈس بھی فراہم کئے جائیں گے ۔ جے اینڈ کے ایم ڈی آئی 2022 ء ایک ایسا ٹول ہے جس کا مقصدجموںوکشمیر یوٹی میں شہری لوکل باڈیز کی ترقی کو معیاری ترقیاتی معیارات کے مقابلے میں جانچنا ہے ۔ جے اینڈ کے ایم ڈی آئی شواہد پر مبنی پالیسی سازی کیلئے ایک رہنما کے طور پر کام کرے گا ، وسیع تر ترقیاتی نتائج حاصل کرنے کیلئے عمل کو متحرک کرے گا ، بشمول دیرپا ترقی کے اہداف ، میونسپل اداروں سے حاصل کردہ نتائج کا جائزہ اور موازنہ ، شہریوں کو مقامی اِداروں کے کام کاج کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اورشراکت داروںمیں مکالمہ قائم کرنے اوریو آر آئی ایف میونسپلٹیوں کو ان کے اسپریشنل ٹاؤن بننے میں اِصلاحات کرنے کیلئے ضروری مالی مراعات فراہم کرے گا ۔ جموںوکشمیر نے بلدیات میں اصلاحات کی ترغیب دینے کیلئے اے ٹی ڈی پی ، یو آر آئی ایف اور مختلف بلدیات کی درجہ بندی کیلئے تشخیص کا فریم ورک تیار کیا ۔ چوں کہ 74 ویں ترمیمی ایکٹ نے 1993ء میں اربن لوکل باڈیز کو گورننس کے تیسرے درجے کے طور پر آئینی تسلیم کیا تھا ، میونسپلٹیزشہری حکمرانی کے لئے اہم بن گئی ہیں۔ اِس لئے ظاہر ہے کہ شہریوں کی ترقی اور حکمرانی کا تعین میونسپلٹیوں کے کام کاج سے ہوتا ہے ۔وہ کلیدی ایجنٹ ہیں جو شہر کو ’’سمارٹ اور دیرپا‘‘ بنانے کے لئے اہل قرار دیتے ہیں ۔ اسسمنٹ فریم ورک 7 عمودی، ستونوں کے ایک سیٹ میں میونسپلٹیوں کی سیکٹورل کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے جس میں معیارِ زندگی اور خدمات ، اِقتصادی صلاحیت ، ٹیکنالوجی ، شہری منصوبہ بندی ، گورننس ، دیرپا اور موسمیاتی اور شہریوں کا اِدراک 7 شعبے /زُمرے اور 138 اشارے شامل ہیں ۔ میونسپل ڈیولپمنٹ اِنڈکس شواہد پر مبنی پالیسی سازی کیلئے ایک رہنما کے طورپر بھی کام کرے گا ،دیرپا ترقیاتی اہداف سمیت وسیع ترقیاتی نتائج حاصل کرنے کیلئے کارروائی کو متحرک کرے گا ، میونسپل اداروں کے حاصل کردہ نتائج کا جائزہ اور موازنہ کرے گا اور شہریوں کو بلدیاتی اداروں کے کام کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا ۔










