جموں//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے سول سیکرٹریٹ میں ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میںجموںوکشمیر یوٹی بھر میں اِنٹرنیشنل فنڈ فار ایگری کلچر ڈیولپمنٹ ( آئی ایف اے ڈی ) پروجیکٹ اور پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹس ( پی ایم یو) کے قیام کی پیش رفت جائزہ لیا۔میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد ،سیکرٹری اے پی ڈی شبنم شاہ کاملی، کنٹری کوآرڈی نیٹر آئی ایف اے ڈی میر امشرا ، سکاسٹ جموں کی نمائندہ ، اے پی ڈی کے تکنیکی اَفسران اور دیگر متعلقہ اَفسران نے ذاتی طورپر اور بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی۔اَتل ڈولو نے اَفسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کاشت کاری ، میکانائزیشن ، زیادہ پیداوار دینے والی مختصر مدت کی فصلوں اور دیگر تکنیکی اقدامات کو متعارف کرتے ہوئے زرعی شعبے کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت پر توجہ مرکوز کریں تاکہ جموںوکشمیر میں آئی ایف اے ڈی کے تحت مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ایڈیشل چیف سیکرٹری نے کہا کہ آئی ایف اے ڈی پروجیکٹ سے جموںوکشمیر میں زرعی شعبے کی ہمہ گیر ترقی کے لئے نمایاں مدد فراہم کررہا ہے اور ہمیں اِس موقعہ کو مطلوبہ مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اِستعمال کرنا چاہیے جیسا کہ آئی ایف اے ڈی پروجیکٹ کے تحت تصور کیا گیا ہے ۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا ہ وہ آئی ایف اے ڈی کی اِنتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل اور ہم آہنگی کو برقرار رکھیں تاکہ اِس منصوبے کو زمینی سطح پر کامیابی کے ساتھ عملایا جاسکے۔اَتل ڈولو نے اِس بات پر زور دیا کہ آئی ایف اے ڈی پروجیکٹ معمولی کسانوں اور مزدوروں کی بہتری کے لئے بہت اہم ہے ۔ اِس لئے محکمہ کو چاہیئے کہ وہ کمیونٹی کے لئے مخصوص اَنٹرپرائز کے لئے ایک ماحولیاتی نظام بنائے اور سپورٹ سسٹم کو مضبوط کرے ۔اُنہوں نے اَفسران سے کہاکہ وہ ایسی فصلوں پر توجہ مرکوز کریں جن کی برآمد کے زیادہ سے زیادہ اِمکانات ہوں تاکہ پسماندہ کسانوں کے مالی حالات بہتر ہوں۔اُنہوں نے اَفسران پر مزید تاکید کی کہ اِنسانی وسائل کی ترقی کے لئے انکیوبشن سینٹرز، کوالٹی کنٹرول میکانزم ، برانڈنگ ، مارکیٹنگ اور سکل ڈیولپمنٹ کے لئے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جانا چاہیئے تاکہ پروجیکٹ کے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکیں۔اُنہوں نے اَفسران سے یہ بھی کہا کہ کسانوں کی استعداد کار میں اِضافے کے لئے پنچایت راج اِداروں کو شامل کرکے مختلف اِداروں کے درمیان شراکت داری قائم کی جائے تاکہ اُنہیں اِس کے لئے مطلوبہ تربیت فراہم کی جائے۔دورانِ میٹنگ وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر نے آئی ایف اے ڈی پروجیکٹ کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جس میں اِس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ زرعی شعبے میں دیہی لوگوں کے حالات کو بہتر بنانے اور دیہی معیشت کو بہتر کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ یہ پروجیکٹ آئی ایف اے ڈی اور جموںوکشمیر حکومت کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے جس میں پسماندہ کارکنوں او رکسانوں کی جامع ترقی ہے۔










