fisheries

جموں وکشمیر حکومت ماہی پروری کو فروغ دینے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا رہی ہے

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت ماہی پروری کو فروغ دینے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لارہی ہے اوراِس شعبے کی ترقی کو بڑھانے کے لئے معیاری ٹراؤٹ سیڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ محکمہ جموںوکشمیر میں ماہی پروری کو فروغ دینے کے لئے قدرتی ٹھنڈے پانی کی ندیوں کو ٹرائوٹ بیجوں سے بھر کر اِس شعبے کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ماہی پالن محکمہ پرائیویٹ سیکٹر میں ماہی پروری کو فروغ دے رہا ہے تاکہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو کمائی کی راہیں فراہم کی جاسکیں اور اِیکو یریم فشریز کو تجارت کے طورپر لینے والے دِلچسپی رکھنے والے اَفراد کے لئے تفریحی فشریز کو کمائی سے بھی فروغ دیا جارہا ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ کشمیر دُنیا میں ایک بہترین موسم بہار کے ساتھ ساتھ برف سے چلنے والی ٹرائوٹ ماہی گیری کی پیش کش کرتا ہے جس میں آلودگی سے پاک ، قدرتی اور خصوصی ندیاں، برف پوش چوٹیوں اور گھنے جنگلات کے ساتھ دریائوں اور تازہ پانی کی متعدد جھیلیں ہیں۔تقریباً 150 فشنگ بیٹس 40ندیوں میں پھیلی ہوئی ہیں جن کی مجموعی لمبائی 500کلومیٹر ہے ۔اِس کے علاوہ تقریباً برائون ٹرائوٹ والی سطح سمندر سے 8,000 فٹ سے 12,000 فٹ کی بلندی تک 12اونچائی والی جھیلیں ہیں۔مرکزی حکومت نے مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے اور قدرتی آبی وسائل میں مصروف مچھلی پالن اور پیشہ ور ماہی گیروں کے لئے بہتر آمدنی کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ملک میں اندرون ماہی گیری اور سمندری ماہی پروری دونوں کی ترقی کے لئے مختلف سکیموں کی نشاندہی کی ہے۔ جموںوکشمیر کا جہاں تک تعلق ہے فزیبلٹی کے پیش نظر جموںوکشمیر میں متعددمرکزی معاونت والی سکیمیں چل رہی ہے۔ماہی گیری شعبے میں چلنے والی مرکزی معاونت والی سکیموں میں اندرون ملک ماہی پروری اور آبی زراعت کی ترقی ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے وزیر اعظم پیکیج ، ماہی گیری کی تربیت او رتوسیع، ماہی گیروں کے لئے قومی فلاحی سکیم ، راشٹریہ کرشی وِکاس یوجنااور کم قیمت مکانات کی تعمیر کے علاوہ سرگرم ماہی گیروں کے لئے گروپ ایکسیڈنٹ اِنشورنس سکیم شامل ہیں۔