سری نگر//مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج (پی ایم ڈی پی) کے تحت مالی معاونت سے چلنے والے پروجیکٹ جو سست روی کا شکار تھے یا سست رفتاری سے چل رہے تھے، 2019 کے بعد سے ان میں زبردست پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔کل 53منصوبوں میں سے 58,477 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور دی گئی ۔ پی ایم ڈی پی کے تحت 29پروجیکٹ پہلے ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ان پروجیکٹوں میں سے 18 پروجیکٹ مرکزی حکومت کے دائرہ اِختیار میں اور 35 پروجیکٹ حکومت جموںوکشمیر کے تحت ہیں۔سرکاری تفصیلات کے مطابق رواں مالی برس کے دوران مزید 12 منصوبے مکمل کئے جائیں گے اور مزید 6 منصوبے 2023ء کے آخیر تک مکمل ہونے کا اِمکان ہے۔مرکزی حکومت جموںوکشمیر میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں بے مثال مدد فراہم کر رہی ہے جس سے تمام محاذوں پر جموںوکشمیر یوٹی میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے ۔ہرشعبے میں تبدیلی نے معاشی استحکام لایا ہے جس سے جموںوکشمیر یوٹی کو سنہری مستقبل کی طرف بڑھنے کا موقعہ ملا ہے کیوں کہ حکومت اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کر رہی ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔حکام کے مطابق 2015ء سے 2020ء تک 53 پروجیکٹوں میں سے صرف 7 منصوبے مکمل ہوئے تھے لیکن گذشتہ دو برسوں میں زائد اَز 22 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کی رِپورٹ کے مطابق جموںوکشمیر نے پینل کو مطلع کیا ہے کہ دسمبر 2019ء تک پیکیج کے تحت تقریباً 46 فیصد فنڈس خرچ اور سات منصوبے پہلے مکمل ہوچکے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 7؍ نومبر2015ء کو وزیر اعظم پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں 80,068 کروڑ کا خر چ شامل تھا۔ تعمیر نو کا منصوبہ بنیادی طورپر پانچ ستونوں بشمول اِنسانی اِمداد،کرائسز مینجمنٹ ، سوشل اِنفراسٹرکچر، ڈیولپمنٹ پروجیکٹس اور اِقتصادی اِنفراسٹرکچر پر منحصر ہے۔تعمیر نو کے منصوبے کا مقصد اِقتصادی اِنفراسٹرکچر کو بڑھانا ، بنیادی خدمات کی فراہمی کو بڑھانا ، روزگار اور آمدنی پیدا کرنے پر زور دینا اور ستمبر 2014ء کے تباہ کن سیلابی متاثرین کو ریلیف اوربحالی فراہم کرنا اور جموںوکشمیر کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک کو مضبوط بنانا ہے۔اِس میں ستمبر 2014ء کے سیلابی متاثرہ کنبوں کے لئے اِنسانی بنیادوں پر اِمداد، مکانات کی تعمیر نو کے لئے اِضافی ایکس گریشیاریلیف،تاجروں ، سیلف ایمپلائیڈ اور کاروباری اِداروں وغیرہ کے لئے سود کی اِمداد کی شکل میں ذریعہ معاش کی بحال کے لئے مدد، پی او کے اور چھمب کے بے گھر اَفراد کی ایک بار کے لئے بحالی کا پیکیج اور کشمیری مائیگرنٹوںکے لئے ٹرانزٹ رہائش اور اِضافی ملازمتوں کی فراہمی شامل ہے۔ اِسی طرح کرائسز مینجمنٹ کمپوننٹ کے تحت جس کی لاگت 5,858 کروڑ روپے ہے۔ اِس میں دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں کے لئے ایک جامع فلڈ کنٹرول پروجیکٹ شروع کرنا بشمول ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ ، تبا ہ شدہ عوامی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی مستقل بحالی کے لئے مدد، جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کی مدد سے ورلڈ بینک کے تحت اِمداد ، ریاست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک کو مضبوط کرنابشمول اِی او سیز اور اس سے منسلک بنیادی ڈھانچہ وغیرہ کا قیام شامل ہے۔سماجی بنیاد ی ڈھانچے کے جزو میں جموں وکشمیر میں ہیلتھ کیئر کے لئے دو ایمز ، ضلعی ہسپتالوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے تعاون کو بڑھانا ، آئی آئی ایم جموں ، سب ڈسٹرکٹ ہسپتالوں اور پی ایچ سیزکے قیام،آئی آئی ٹی جموں 1,00,000نوجوانوں کو خود روزگار کے لئے تربیت دی جائے گی ، کھیل اَفراد کی حوصلہ اَفزائی اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے اِنڈور اور آئوٹ ڈور سٹیڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔چوتھے جز میں سیاحت ، زراعت ، باغبانی اور شہری ترقی سے متعلق شعبوں میں منصوبوں پر کارروائی اور بیرونی اِمدادی منصوبوں کے لئے فنڈنگ وغیرہ شامل ہے۔اِقتصادی اِنفراسٹرکچر کے حصے میں پاور ، روڈ ، ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز ، شہری ترقی جیسے پاکل ڈول ایچ اِی پی ، سری نگر ۔ لیہہ 220کے وِی ٹرانسمیشن لائن، لیہہ اور کرگل میں دوپائلٹ سولر پاور پروجیکٹ ، پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لئے فنڈس ، تقسیمی اور ترسیلی نظام کو بڑھانے کے لئے فنڈس ، ڈی پی آر کی تیاری اور چھوٹے ہائیڈرو پروجیکٹس کا نفاذاور تنصیب ،چارلیننگ اور جموں سری نگر ہائی وے کے مختلف حصوں کی بہتری ، بھارت مالا کے تحت ریاست میں سڑک کنکٹویٹی کو بہتر بنانے کے لئے پانچ پروجیکٹ ،راجدھانی جموں اور سری نگر وغیرہ میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا جیسے شعبوں میں بڑے منصوبے شامل ہیں۔










