Ban on schools run by public welfare trusts

خصوصی اِندراج مہم ’’ آئو سکول چلیں‘‘کے تحت

کشمیر کے سکولوں میں طلباء کے اِندراج میں 19.2 فیصد کا اِضافہ

سری نگر//کشمیر میں سرکاری سکولوں کے تعلیمی معیار میں بہتری کی عکاسی کرتے ہوئے جاری تعلیمی سال میں سرکاری سکولوں میں طلباء کے داخلے میں زائد اَز 19.2 فیصد کا اِضافہ ہوا ہے۔سکولی تعلیم محکمہ نے حالیہ برسوں میں ایک بے مثال ایک ریکارڈ بالخصوص ابتدائی طبقے میں قائم کیا ہے۔ سماگراہ شکھشا ایک اعزاز کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے عالمی اِندراج اور برقرار رکھنے ، سماجی ، علاقائی اور صنفی فرق کو کم کرنے ، خصوصی ضروریات والے بچوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے اور معیار کے پیرامیٹروں کو فروغ دینے کے سلسلے میں اِقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق نئے داخلوں کا سب سے زیادہ فیصد جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں درج کیا گیا جہاں طلباء کے اِندراج میں 19.2 فیصد کا اِضافہ ہوا ہے ۔سرکاری اعداد شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری سکولوں میں ’’ اِندراج مہم سے قبل کُل 44,559 طلباء نے داخلہ لیا تھا تاہم مہم کے بعد ضلع نے نئے 10,156 داخلے ریکارڈ کئے ہیں۔ اِسی طرح جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں طلباء کے اِندراج میں 21.78 فیصد اِضافہ درج کیا گیا ۔ ضلع میں اِس تعلیمی سیشن میں 19,436 نئے داخلے بھی ہوئے ہیں۔اِسی طرح ضلع بانڈی پورہ میں طلباء کے اِندراج میں 8.9 فیصد کا اِضافہ ہوا ۔ اِس کے بعد وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں 5.3 فیصد ، سرحدی ضلع کپواڑہ میں 19.2 فیصد ، بارہمولہ میں 17.8 فیصد ، شوپیان میں 3.8 فیصد ، پلوامہ میں 4.8 فیصد اور سری نگر میں 3.3 فیصد کا اِضافہ ہوا۔پہلے صورتحال مختلف تھی کیوں کہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار ٹرانسفارمنگ اِنڈیا( این آئی ٹی آئی ) آیوگ کی سکول کوالٹی ایجوکیشن اِنڈکس ( ایس اِی کیو آئی ) 2019ء کی رِپورٹ کے مطابق جموںوکشمیر سرکاری سکولوں میں ابتدائی اور ثانوی دونوں سطحوں پر اِندراج کا تناسب سے کم تھا۔محکمہ سکولی تعلیم کی جانب سے شروع کئے گئے مختلف اقدامات نے پرائیویٹ سے لے کر سرکاری سکولوں کی طرف طلباء کو راغب کیا ۔ مزید یہ کہ زائد اَز 1.50لاکھ اساتذہ کو ابتدائی اساتذہ کی تربیت کے تحت کور کیا گیا ، اپر پرائمری سکولوں میں 126 کمپیو ٹر ایڈ یڈ لرننگ ( سی اے ایل )سینٹر قائم اور 13,000 جسمانی طور خاص بچوں کو طبی اِمدد اور اِمدادی آلات فراہم کئے گئے۔سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے ،’’ ہر برس اوّل سے آٹھویں جماعت کے طلبا ء کو مفت درسی کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ مختلف بہاکس( ہائی لینڈ چراگاہوں ) میں سیزنل مراکز نقل مکانی کرنے والے آبادی کے بچوں کے لئے قائم کئے گئے تھے۔اِس کے علاوہ این آر بی سی مراکز سکول سے باہر بچوں کے لئے قائم کئے تھے ۔‘‘دیگر اہم مداخلتوں جیسے مڈ ڈے میل سکیم کو مڈل سکولوں تک توسیع دینے سے ان سکولوں کے اِندراج کو بڑھانے میں زبردست مدد ملی ہے۔ سکولی تعلیم محکمہ ( ایس اِی ڈی ) نے سکولوں میں سکول چھوڑنے والے تقریباً1,143 بچوں کا نئے سرے سے اِندراج کیا ہے اور اِس کے علاوہ 965 بچوں کو خصوصی ضرورتوں والے ( سی ڈبلیو ایس این ) میں داخل کیا ہے اور 28,295 طلباء نے نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں داخلہ لیا ہے۔جموں وکشمیر سرکاری سکولوں میں خصوصی اِندراج مہم ’’ آئو سکول چلیں‘‘ کے تحت سرمائی سیشن کے دوران 1,18,176 طلباء کا داخلہ کیا گیا ۔ اِس مہم میں 3سے 5 برس تک کی عمر کے بچوں کی پری سکولنگ کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا جس کے ساتھ ساتھ سکول چھوڑنے والے طلباء اور ان بچوں کا دوبارہ داخلہ کر کے سرکاری سکولوں میں مجموعی طورپر داخلہ بڑھانے پر توجہ دی گئی جو کبھی سکول میں داخل نہیں ہوئے تھے۔سکولی تعلیم محکمہ جموںوکشمیر کے تمام سکولوں میں سیکھنے والوں کے اِندراج کو بڑھانے کے لئے گھرگھر مہم چلارہا ہے ۔