سری نگر//غیرمعمولی حفاظتی بندوبست کے بیچ سالانہ امرناتھ یاترا2022 شدومد سے جاری ہے ۔دوسرے روز بھی ہزاروں یاتری ،امرناتھ گھپا میں درشن وپوجاپاٹ کیلئے نون ون پہلگام اوربال تل گاندربل بیس کیمپوں سے روانہ ہوئے جبکہ جمعہ کوعلی الصبح بھگوتی نگرجموں یاتری نواس سے 6400یاتری 265چھوٹی بڑی گاڑیوں میں کشمیر کی جانب روانہ ہوئے،جوبعدسہ پہر بیس کیمپوںمیں پہنچے ۔اس دوران معلوم ہواکہ دونوں بیس کیمپوںمیں یاتریوںکی سہولیت کیلئے بی ایس این ایل کے پری پیڈ سم کارڈ دستیاب رکھے گئے ہیں،کیونکہ امرناتھ گھپا کے علاقے میں صرف اسی ٹیلی کام کمپنی کی موبائل فون سروس چلتی ہے ۔یہ بھی معلوم ہواکہ یاتریوںکوصبح 5بجے سے11بجے تک دومیل اورچندی واڑی گیٹ عبور کرنا ہوتے ہیں جبکہ سہ پہر3بجے کے بعدکسی بھی یاتری کوپنجترنی سے گھپاکی جانب سفر جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق سری نگر جموں قومی شاہراہ اور امرناتھ گھپا کی جانب جانے والے دونوں پہاڑی راستوں پر غیر معمولی سیکورٹی انتظامات کے بیچ سالانہ یاترامیں شامل ہونے کیلئے نون ون پہلگام اوربال تل سونہ مرگ پہنچنے والے ہزاروں یاتریوںکادوسرا جتھہ جمعہ کوعلی الصبح سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلندی پرواقع امرناتھ گھپاکی جانب روانہ ہوئے ۔یاتریوںکے دو قافلوںکوحکام اورشرائن بورڈ کے ذمہ داروںنے جمعہ کوصبح کے وقت نون ون بیس کیمپ اوربال تل بیس کیمپ سے روانہ کیا۔شرائن بورڈ نے یاتریوں کیلئے یہ لازم قرار دیاہے کہ وہ صبح 5بجے سے11بجے تک دومیل اورچندی واڑی گیٹ عبور کریں اورساتھ ہی چندی واڑی گیٹ عبور کرنا ہوتے ہیں جبکہ سہ پہر3بجے کے بعدکسی بھی یاتری کوپنجترنی سے گھپاکی جانب سفر جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔اسبارے میں شرائن بورڈ کے ذمہ دار اورانتظامیہ کے حکام کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ یاتریوںکوکسی بھی طرح کی مشکل موسمی صورتحال سے محفوظ رکھنے کیلئے لیاگیا ہے ۔انہوںنے واضح کیاکہ 70سے زیادہ عمر والے بزرگ شخص ،13سال کی عمر سے کم بچوں وبچیوں اور6ماہ کی حاملہ خواتین کیلئے یاترا کوممنوعہ قرار دیاگیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ دونوں بیس کیمپوںمیں اسبات کویقینی بنایا جاتاہے کہ یاتریوںنے معقول کپڑے جوتے وغیرہ پہن رکھے ہوں نیز وہ اپنے ساتھ دیگرضروری سامان بھی رکھے ہوئے ہیں ۔خیال رہے سالانہ امرناتھ یاترا2022جمعرات یعنی30جون کومقررہ وقت پر شروع ہوئی اورنون ون اوربال تل بیس کیمپوں سے ہزاروں یاتری گھپا کی جانب روانہ ہوئے ۔غور طلب ہے کہ نون ون پہلگام سے امرناتھ گھپا تک کی مسافت تقریباً48کلومیٹر اوربال تل بیس کیمپ سے فاصلہ 14کلومیٹر کے لگ بھگ ہے ۔اُدھر سخت سیکورٹی کیبیچ6400 یاتریوں کا تازہ جتھہ جمعہ کی صبح بھگوتی نگرجموں یاتری نواس سے ایک محفوظ قافلے میں ہمالیہ کے جنوب میں واقع امرناتھ غار کی درشن کے لیے روانہ ہوا۔’بم بام بھولے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے یاتری صبح سویرے 265 گاڑیوں کے قافلے میں یہاں سے روانہ ہوئے۔حکام نے بتایا کہ جمعہ کو6400یاتریوں کی روانگی کیساتھ بھگوتی نگریاتری نواس سے روانہ ہونے والے یاتریوںکی کل تعداد 17100 تک پہنچ گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ بدھ کویہاں سے 4890یاتری ،جمعرات کومزید5810اورجمعہ کو6400یاتری درشن کیلئے جموں سے روانہ ہوئے ہیں ۔حکام نے مزید تایا کہ 7000 سے زیادہ تازہ یاتری ملک بھر کے مختلف مقامات سے جموں پہنچے ہیں۔تین کاؤنٹرز پر موقع پر رجسٹریشن اور دو کاؤنٹرز پر ٹوکن کی فراہمی کے بعد انہیں یہاں کے32 قیام گاہوں اور بیس کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔حکام کاکہناہے کہ امسال توقع ہے کہ یاترا میں معمول سے زیادہ حاضری دیکھنے کو ملے گی کیونکہ یہ تین سال کے وقفے کے بعد منعقد ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ امرناتھ یاترا43روزتک جاری رہنے کے بعد11، اگست کو رکھشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔










