سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے آج کہا کہ حکومت نے ولر اور مانسبل جھیلوں کے تحفظ اور بحالی کے لئے ایک طریقہ کار تیار کیا ہے تاکہ ان لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے جن کی روزی روٹی ان جھیلوں سے جُڑی ہوئی ہے ۔اِن باتوں کا اِظہار اَتل ڈولو نے آج یہاں ٹیگور ہال میں ’’ ماہی پروری کی بحالی، ندرو کا دائرہ کار ( نیلم بو نیو سیفیرا) ، سنگھاڑے میں اِضافہ ۔ اِس کی قابل عملیت اور کاروباری شخصیت‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کے اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جے اینڈ کے ایڈ وائزری بورڈ نے ورکشاپ کا اہتمام کسانوں کی ترقی کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف فشریز جموں و کشمیر اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگر ی کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ( سکاسٹ ) کشمیر کے اِشتراک سے کیا ہے ۔ورکشا پ کے اِفتتاحی سیشن کے دوران ڈائریکٹر زراعت کشمیر ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کشمیر ، ڈائریکٹر فشریز ، سیکرٹری جے اینڈ کے ایڈ وائزری بورڈ فار ڈیولپمنٹ آف کسان ، نیشنل ہارٹی کلچر بورڈ ( این ایچ بی ) کے نمائندگان ، گورنمنٹ آف ایڈ وائزری بورڈ کے ممبران ، ماہی گیروں کی بہت بڑی تعداد اور متعلقہ اَفسران بھی موجود تھے۔اَتل ڈولو نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ولر اور مانسبل جھیلوں کے تحفظ اور بحالی کے لئے ایک طویل حکمت عملی تیار کر رہی ہے تاکہ ان سے وابستہ لوگوں کی روزی روٹی متاثر نہ ہو ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ اِس جھیل کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ولر کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور حکومت ان جھیلوں کی پرانی شان رفتہ کو بحال کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت اِن جھیلوں کے اِرد گرد ہوم سٹے کو فروغ دے رہی ہے تاکہ اِن علاقوں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے لئے خود روز گار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔اُنہوں نے کہ اکہ ماہی گیری شعبے میں فارمر پروڈیو سنگ آرگنائزیشنز ( ایف پی او ) قائم کی جائیں گی تاکہ مچھلیوں کو مناسب طریقے سے ذخیرہ کیا جاسکے اور مناسب مارکیٹ میں فروخت کیا جاسکے تاکہ ماہی گیروں کو ان کی مچھلیوں کی مناسب قیمت مل سکے اور اس کے نتیجے میں ان کی آمدنی میں اِضافہ ہو۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ولر اور مانسبل جھیلوں کے قریبی علاقوں میں ایس ایچ جی بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ ان علاقوں میں خواتین کاروباریوں کو فروغ دیا جاسکے اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوسکے۔اَتل ڈولو نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں حکومت سکاسٹ ۔ کشمیر سے مل کرسنگھاڑے کی کٹائی کے لئے ایک سائنسی طریقہ کار تیار کرے گا تاکہ اِس تجارت سے وابستہ خواتین اِس تجارت میں خود کو منسلک کرنے میں مزید دِلچسپی پیدا کریں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ ماہی گیر برادری اور ندرویا چیسٹ نٹ کے کاروبار سے منسلک دیگر اَفراد کے لئے بھی فائد ہ بخش ثابت ہوگا اور ان کی آمدنی میں اِضافے اور اِس طرح ان کی معاشی ترقی کی حالت میں مدد کرے گا۔بعد میں ورکشا پ کے تکنیکی سیشن کے دوران مرکزی این ایچ بی ، سکاسٹ کشمیر اور مختلف کالجوں کے ریسورس پرسنز نے جھیل ولر کی بحالی کے لئے مختلف اِقدامات سے ان طریقوں کے بارے میں تفصیل سے بات کی جن سے مچھلی کی پیداوار میں اِضافہ کیا جاسکتا ہے۔










