awam ki awaz

یوگا جسمانی نشوو نما کو بہتر بنانے کا ایک منفرد ذریعہ ہے:لیفٹیننٹ گورنر

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ اَپنی مجموعی صحت و تندرستی کے لئے یوگا کی مشق کریںاوریوگا جسمانی نشوو نما کو بہتر بنانے اور ذہنی تنائو کو دُور کرنے کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔21؍ جون کو یوگا کے بین الاقوامی دِن کے موقعہ پر ’’ یوگا فار ہیومینٹی ‘‘ کے موضوع پر منایا جائے گا۔ حکومت یوگا سے متعلق سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے مختلف بیداری پروگرام چلا رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یوگا ایک نایاب سائنسی طریقہ ہے جو جسمانی اور ذہنی طاقت کو بہتر بناتا ہے اورذہنی تناؤ پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے یوگاکولوگوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنانے کے لئے انتھک محنت کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا ،’’یوگا متعدد بیماریوں پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے، قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور معیار زندگی گزارنے کیلئے ایک جامع نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔ ۔‘‘اُنہوں نے لوگوںمیں یوگا کو فروغ دینے میں ان کی سرگرم شمولیت کے لئے آرگنائزیشنوں اور اَفراد کی تعریف کرتے ہوئے زکورہ حضرت بل کے محمد طاہر کا ذکر کیا جو جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع میں سال بھر مفت تربیتی کیمپوں کا اِنعقاد کر رہا ہے۔اِسی طرح کے سری نگر کے شبیر احمد ڈار اَپنی آرگنائزیشن یوگا سوسائٹی آف کشمیر سے 2009ء سے خصوصی یوگا تھراپی کیمپس کا اِنعقاد کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں میں قدرتی اور صحت مندانہ طریقوں کو فروغ دینے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میں یوگا مراکز کے قیام کے لئے حکومت کی طرف سے اُٹھائے گئے اِقدامات کا بھی ذکر کیا ۔ اِس برس فِٹ اِنڈیا موومنٹ کے تحت ، سکولی تعلیم محکمہ بھی بڑے پیمانے پر یوگا ڈے منارہاے۔جموں وکشمیر میں ’’ وَن ڈسٹرکٹ وَن پروڈکٹ ‘‘ سکیم کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی کوششیں ’’ عوام کی آواز ‘‘ ماہانہ ریڈیو پروگرام کے اِس 15 ویں قسط میں توجہ کا مرکز بنا رہا۔اُنہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کی رہنمائی میں اَضلاع کی صلاحیت کو برآمدی مرکز کے طور پر ترقی دے رہے ہیں اوراضلاع کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کر رہے ہیں ۔ اخروٹ ، زیتون ، لیمون گراس وغیرہ جیسی مصنوعات سے وابستہ لوگ متعلقہ منتخب میں اَفسران سے ملاقات کر کے اِس سکیم کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مرکزی حکومت متعلقہ یونٹ پر 35 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور اس سے ان مصنوعات کے لئے مارکیٹنگ پلیٹ فارم بھی فراہم کیا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈوڈہ ضلع کو پہلے زیتون کا ضلع قرار دیا گیا تھا لیکن اَب اخروٹ کی پیداوار کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ اخروٹ اُگانے والے ڈوڈہ کے کسان بھی اِس سکیم کا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے زینہ کوٹ کے جاوید احمد کا خصوصی تذکرہ کیا جو لوگوں کو ہوکر سر ویٹ لینڈ کو صاف کرنے کے لئے متحرک کر رہے ہیں اور ویٹ لینڈ کی بحالی کا خواب پورا کر رہے ہیں جو ماحولیاتی نظام کو پھر سے زندہ کرسکتا ہے۔اُنہوں نے بانڈی پورہ کے کہنو سا سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ عبدالصمد دھان کے بھوسے کی چپل ( پلہور) بنانے کے روایتی فن کو زندہ رکھنے کے لئے حوصلہ اَفزائی کے مستحق ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی ماحولیاتی ، ثقافتی اور اقتصادی قدر کی وجہ سے یہ مصنوعات موجودہ دور میں خاموشی سے خریدار تلاش کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر جموںوکشمیر کی کاروبار ی خواتین پر زور دیا کہ وہ گائوں اکل پور جموں کی پریتی چِب سے تحریک حاصل کریں جو سراسر محنت اور ذہانت سے گھریلو نام بن چکا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ’ ’ پریتی مشرومز‘‘ کے نام سے اس کا پھلتا پھولتا برانڈ خود اِنحصاری ، صنفی مساوات اور خواتین کو بااِختیار بنانے کا مترادف بن گیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں’’ سپریچول سرکٹس کی شناخت ، مضبوطی اور فروغ ‘‘ کے عمل میں عوام کو مساوی حصہ دار بنانے کے لئے بارے میں راجوری سے تعلق رکھنے والے شبھم گپتا کی تجویز کا اشتراک کیا۔ وہ ایک تفصیلی روڈ میپ بھی شیئر کرتا ہے جو سیکورٹی ، پالیسی ، ذمہ داری ، رسائی ،نوجوانوں اور یوگا پر مرکوز ہے۔اُنہوں نے اودھمپور کے پونیت شرما سے ہیکا تھون کے اِنعقاد سے نوجوانوں میں ’’ جدت طرازی‘‘ کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں اقدامات کے سلسلے میں موصول ہونے و الی بصیر ت اور ذہانت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے دور میں علمی معیشت کی تعمیر کے لئے سمارٹ اور اختراعی خیالات کی حوصلہ اَفزائی ضروری ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ’’ کوڑاکرکٹ کے خلاف زیرو ٹالرینس ‘‘ کے اِختراعی ماڈل کو اَپنانے کے بارے میں ندھی گوئل کی تجویز پر تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ شہروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے عوامی شراکت کے جذبے کے ساتھ اَپنا شہری فرض اَدا کریں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس تادیبی نقطہ نظر کا مقصد طرز عمل میں تبدیلیاں لانا ہے جو شہر کو سمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کی شرط ہے۔اُنہوں نے سری نگر کی شلپی بھٹ ، مہرین الطاف ، اَطہر خان اور بارہمولہ کے مظفر ڈار سے طالب علموں اور ماہرین تعلیم کے لئے آن لائن مواد کے پول ، خواتین کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ پر دور بار غور کرنے اور مصروف ضلع میںخواتین کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ پر دوبارہ غور کرنا اور مصروف ضلعی سڑکوں پر ’ ’’ خواتین کی خصوصی گلابی بسیں ‘‘ متعارف کرنا، بی ایس این ایل کی خدمات کا پرفارمنس آڈٹ اور بسوں اور ٹرکوں میں خودکار فٹنس ٹیسٹ کٹس کو لازمی بنانے سے متعلق موصول ہونیو الی تجاویز کو بھی شیئر کیا۔ لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ شری امرناتھ جی کی پوتر یاترا 30 ؍ جون کو شروع ہو رہی ہے ۔ جموںوکشمیر اِنتظامیہ اور عوام ملک اور بیرون ملک سے آنے والے شری امرناتھ جی کے عقیدت مندوں کے استقبال کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یاتریوں کی بھاری آمد کی توقع کرتے ہوئے اِس برس خاطر خواہ اِنتظامات کئے گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے بابا چملیال کے میلے پر بھی لوگوں کو مبارک باد پیش کی جو 23؍ جون کو سانبہ ضلع میں منعقد ہونے جارہا ہے۔