سرکار سے 10 کروڑ روپیہ بطور حرجانہ ادا کرنے کا دعواے کیا
سرینگر//جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر اورگپکار الانس کے سرکردہ عہدہ دار مظفر شاہ کیطرف سے ضابطہ طور آنریبل پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈشیشن جج صاحب سرینگر کی عدالت میں موجودہ ارباب اقتدار اور محکمہ پولیس کے اعلٰے عہدہ داروں اور ان کے ماتحت دیگر اہلکاروں کے خلاف دس کروڈ روپے بطور تعاون؍ ہرجانہ ادا کرنے کے لے مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ ۴ ؍اگست۲۰۱۹ء آئین ہند کے دفعہ 370 اور 35-A جس کو آئین کے تحت ایک بنیادی دفعہ کی حثیت کے طور جگہ دی گئی تھی۔ مرکز میں برسر اقتدار BJP کی جماعت نے غیر آئینی غیر قانونی اور آمرانہ طور ہٹا کر ریاستی عوام کے جائیز آئینی اور قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا۔ ریاستی عوام کو انتہائی نا مصائیدحالات سے عرصے تک دوچار کر دیا گیا۔یہاں کے عوام کاجینا دوبر کردیا ۔عام لوگوں اور یہاں کے سیاسی اور سماجی لیڈروں کو بلا کسی قانونی جواز کے خانہ نظر بند رکھا ۔جیل خانون میں دیکھیلا۔اسی دوراں اے این سی کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ اِن کی والدہ محترمہ بیگم خالدہ شاہ و ڈاکٹر مصطفٰے کمال کو زور زبردستی اور غیر قانونی طور 8 ماہ تک اپنے ہی گھروں میں نظر بند رکھا۔پولیس اور سیکیورٹی کے جابراً حصار میں اِن کے بْنیادی ،قانونی اور انسانی حقوق کو پامال کیا ۔بدیں وجوہات اے این سی کی طر ف سے عدالت عالیہ آنریبل جموں کشمیر ہائی کورٹ میںحبس بیجاکی ایک رٹ دائر کی گئی ۔حکومت کے ذمہ داروں نے عدالت عالیہ میں سرکار کی طرف سے تحریری طور بیان دائر کردیا کہ درخواست گزاراں Petitioners خود آپنی مرضی سے آپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔اِن کے خلاف کوئی کیس نہ ہے اور نا ہی اِن کے قانونی حقوق کو پامال کیا گیا۔بلاخر پیٹیشنرس کی طرف سے عدالت عالیہ میں LPAدائر ہوئی اور آنریبل ڈیوژن بینچ پر مشتمل جج صاحبان نے پیٹیشنرس کو فوری طور گھروں سے باہر آنے دینے کا حکم صادر کیا اور سیکورٹی حصار ہٹانے کا بھی حکم صادر کیا ۔فیصلہ میں یہ واضح کیا گیا کہ پیٹیشنرس عدالتِ مجاز میں اپنا کیس دائر کر کے ثابت کر سکتے ہے ۔کہ اْن کی نظر بندی غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں ۔اسی بنا پر پیٹیشنر نے عدالتِ مجاز آنریبل پرنسپل ڈسٹرکٹ جج سرینگر میں باضبطہ طور ہرجانہ کا مقدمہ 10 کروڑ روپیہ دائر کیا گیا۔اس وقت مقدمہ آنریبل فسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج صاحب سرینگر میں زیر سماعت ہے ۔آنریبل عدالت نے مدعالم کے نام باضبطہ طورعدالت میں حاضر ہونے کے لئے احکامات جاری کئے اوراگلی پیشی مورخہ 24 جون 2022 کو مقرر ہوئی ہے۔واضع رہے دعواے میں نہ صرفs Defendant کے خلاف بطوری سرکاری عہدہ داراںقصور وار اور ذمہ دارگردانہ ہے بلکہ انفرادی اور ذاتی طوراس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام اور سرزنی پر بھی حرجانہ مدعی کی طرف ادا کرنے کی درخواست کئی گئی ہے۔










