جموں وکشمیر پی ایم جی ایس وائی کے تحت تین بہترین کارکردگی دِکھانے والوں میں سرفہرست
سری نگر//جموںوکشمیر میں 2019ء سے قبل 6.54 کلومیٹر کے مقابلے میں گذشتہ تین برسوں میں سڑکوں پر تار کول بچھانے کی اوسط 20.6 کلومیٹر فی دِن تک بڑھ گئی ہے جو جموںوکشمیر میں ہو رہی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموںوکشمیر میں سڑکوں کی لمبائی بڑھ کر 41,141 کلومیٹر ہوگئی ہے اور 2019ء میں بلیک ٹاپ سڑکوں کا فیصد 66 فیصد کے مقابلے میں 74 فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔پوتھولی فری روڈ پروگرام تحت2021-22 ء کے لئے 5,900 کلومیٹر کا ہدف رکھاگیا تھا جس میں سے اَب تک 4,600 کلومیٹر سڑک کو گڑھے سے پاک کیا جاچکا ہے۔ یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر کو ایک بار پھر پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائی ) کے تحت ہربرس سڑک کی لمبائی کی تعمیر کے لئے قومی سطح پر سب سے اوپرتین رِیاستوں اور یوٹیوں میں شمار کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر نے لگاتار دوسرے برس اَپنا مقام برقرار رکھا کیوں کہ محکمہ تعمیرات عامہ ( آر اینڈ بی ) نے سال 2021-22ء کے دوران پی ایم جی ایس وائی سڑک کی لمبائی 3,284 کلو میٹر تعمیر کی اور سال میں 427 سکیموں کو اَنجام دے کر 114 بستیوں کو سڑکوں کے نیٹ ورک سے جوڑ اہے۔پی ایم جی ایس وائی کے تحت، روزانہ اوسطاً 9 کلومیٹر سڑک کی لمبائی تعمیر کی گئی تھی، جو کہ سال 2020-21ء کی کامیابی سے تھوڑی زیادہ تھی جس کی اوسط 8.67 کلومیٹر فی دن تھی اور پی ایم جی ایس وائی کے تحت 119 بستیوں کو جوڑا گیا تھا جس کی تعمیر کی گئی سڑک کی لمبائی 3,167 کلومیٹر تھی۔ ٹنلوں کی تعمیر اور میکڈامائزیشن کے اور سری نگر ۔ جموں قومی شاہراہ کی توسیع سے ٹرکوں کے لئے اوسط لے اوور اَب 12گھنٹے سے بھی کم ہے جو پہلے 24گھنٹے سے 72گھنٹے تک کا تھا ۔ قومی شاہرہ پر مسافروں کے سفر کا وقت 2019ء سے پہلے 7سے 12گھنٹے سے کم کر کے 5گھنٹے 50منٹ کا کیا گیا ہے۔مزید برآں، 2022ء کے دوران چار قومی شاہراہ کے منصوبے مکمل کئے جارہے ہیں۔دہلی ۔ امرتسر کٹراایکسپریس وے کی تکمیل کی جارہی ہے ۔ بھارت مالا کے تحت مرکزی وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نے 10نئے سڑک اور ٹنل پروجیکٹوں پر اِتفاق کیا۔ زائد اَز 1,000 آبادی والی تمام بستیوں کو ( 2011ء کی مردم شماری کے مطابق)سڑک سے رابطہ فراہم کیا گیا ہے۔سال 2022-23 ء تک 500 آبادی والی بستیوں کے لئے سڑک رابطے کی فراہمی پ ربھی کام کیا جارہا ہے۔جموںوکشمیر کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے سڑک رابطے سے غیر منسلک بستیوں تک پہنچنے ، اِنٹرایوٹی روڈ نیٹ ورک کو مضبوط اور وسعت دینے کے مشن پر بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں کام شروع کیا ہے محکمہ تعمیراتِ عامہ ( آر اینڈ بی ) نے دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ رابطہ فراہم کرنے کے لئے سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر ، بہتری اور اَپ گریڈیشن کے لئے عملائے گئے مختلف سکیموں اور پروگراموں کے تحت کافی اہداف اور حصولیابیاں حاصل کی ہیں۔پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائی ) برج پروگرام ، سینٹرل روڈ اینڈ اِنفراسٹرکچر فنڈ ( سی آر آئی ایف ) ، نبارڈ ، روڈ سیکٹر ، سٹیز اینڈ ٹائونز ( میکدیمائزیشن ) ، لنگویشنگ پروجیکٹس،گڑھے کے بغیر روڈ پروگرام، این ایچ اے آئی ، این ایچ آئی ڈی سی ای ل، بی آر او اور دیگر محکمانہ کام کرتا ہے۔جموں وکشمیر اِنتظامیہ کے لئے اِقتصادی اور سماجی خدمات تک رَسائی کو فروغ دے کر سڑک رابطہ نہ صرف دیہی ترقی کا ایک اہم جزو ہے بلکہ زرعی آمدنی میں اِضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ان کی عمل آوری حکمت عملی کا حصہ ہے۔جموںوکشمیر کے دیہاتوں کو جدید ترین رابطہ فراہم کرنے کی سمت میں دیگر اِصلاحات میں جے اینڈ کے پی ڈبلیو ڈی اِنجینئر نگ مینول 2021ء کانفاذ ، روڈ مینٹی ننس پالیسی ۔2021ء کی تشکیل ، جے اینڈ کے میکڈامائزیشن ( عمل در آمد اور کوالٹی کنٹرول ) اور ڈی ایل پی انفورسمنٹ مینول ، ایس او پی ، باقاعدہ محکمانہ کارروائیاں ، آن لائن مینجمنٹ مانیٹرنگ اکائونٹنگ سسٹم کا تعارف ، دو فریقی کوالٹی کنٹرول میکانزم کا تعارف ، تعمیر و ترقی اور ہماری سڑک موبائل اپیس کا تعارف وغیرہ شامل ہیں۔نئے آن لائن اِقدامات کا مقصد نئی شکایات کی آن لائن رجسٹریشن ، شکایات کا سراغ لگانا ، آن لائن مانیٹرنگ اور رئیل ٹائم گریوینس رِپورٹ جیسی اہم خصوصیات کا احاطہ کرتے ہوئے شکایات کے اِنتظام کے نظام کو مزید مضبوط اور جواب دہ بنانا ہے۔










