طلاب قریبی سرکاری اسکولوں میں خود کو داخل کرائیں:پرنسپل سکریٹری محکمہ اسکولی تعلیم بی کے سنگھ
سری نگر// جموں و کشمیر انتظامیہ نے منگل کے روز ایک غیرمعمولی اقدام کے تحت کالعدم مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کے ذیلی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام تمام اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیراسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری بی کے سنگھ کے ذریعہ جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیرمیں فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام اسکولوں میں تمام تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہو جائیں گی۔منگل کو جاری ہونے والے حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ممنوعہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے تمام طلباء وطالبات موجودہ تعلیمی سیشن یعنی2021-22 کے لئے قریبی سرکاری اسکولوں میں خود کو داخل کرائیں گے۔ پرنسپل سکریٹری بی کے سنگھ کے ذریعہ جاری کردہ میں مزیدکہاگیاہے کہ تمام چیف ایجوکیشن افسروں،پرنسپلوں اورزونل ایجوکیشن افسر فلاح عام ٹرسٹ کے اسکولوںمیں زیرتعلیم رہے طلاب کوسرکاری اسکولوںمیں داخلے میں سہولت فراہم کریں گے۔اس دوران ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیرمیں فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام 12ویں تک تقریباً ایک درجن اسکول ہیں ،اوراس کے علاوہ پرائمری اور مڈل کی سطح پر درجنوں دیگر اسکول ایسے ہیں جو اس حکم سے متاثر ہوں گے۔اس دوران ایک میڈیارپورٹ کے مطابق جموں وکشمیر ا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام اسکولوںمیں تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیا۔حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے ا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے منگل کو کالعدم تنظیم جماعت اسلامی سے وابستہ فلاح عام کے زیر انتظام ا سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا حکم دیا۔یہ حکم جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی(SIT) کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے پس منظر میں آیا ہے جس میں فلاح عام ٹرسٹ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی کاموں، سراسر دھوکہ دہی، سرکاری زمینوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کا الزام لگایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، بنیاد پرست کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کیساتھ فلاح عام ٹرسٹ کا الحاق ہے جسے وزارت داخلہ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کی دفعات کے تحت ممنوع قرار دیا ہے۔حکام نے الزام لگایا کہ ممنوعہ تنظیم جماعت اسلامی زیادہ تر فلاح عام ٹرسٹ کے اسکولوں، مدارس، یتیم خانوں، مساجد کے منبروں اور دیگر خیراتی اداروں کے وسیع نیٹ ورک سے اپنی کمائی حاصل کرتی ہے اور مزید کہا کہ اس طرح کے اداروں نے2008، 2010 اور 2016 میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدامنی میں تباہ کن کردار ادا کیا جس سے عام لوگوں کو بہت بڑی مصیبتیں آئیں، اور انہیں دھمکی دینا،دہشت پھیلانا اور سڑکوں پر تشدد کے ذریعے بند کرنے پر مجبور کرناشامل تھا۔بتایاجاتاہے کہ تقریباً تمام فلاح عام ٹرسٹ اسکول جن کی تعداد 300 سے زیادہ ہے، غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی سرکاری اور کمیونٹی اراضی پر موجود پائے گئے ہیں جہاں زمین پر زبردستی، بندوق کی نوک پر قبضہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی ریونیو اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت سے جنہوں نے دھوکہ دہی اورجعل سازی کے ذریعے ریونیو دستاویزات میں غلط ادارے بنائے تھے۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی(SIT) نے پہلے ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر رکھی ہے اور ایجنسی ان تمام دھوکہ دہی، غیر مجاز اداروں اور جعلسازیوں کا پتہ لگانے کیلئے ان تحقیقات کے دائرہ کار کو بڑھا رہی ہے جو دہشت گردوں کی ایماء پر پچھلے 30 سالوں میں کئے گئے ہیں اور دیگر معاملات جن میں فنڈنگ بھی شامل ہے۔










