احتجاج کے دوران اشتعال انگیز نعرے بازی پر9افراد گرفتار
سری نگر// جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع کے کرفیو والے بھدرواہ قصبے میں منگل کو9افراد کو حراست میں لیا گیا، جب کہ قریبی کشتواڑ ضلع ہیڈکوارٹر میں5 گھنٹے کیلئے پابندیوں میں نرمی کی گئی۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے بتایاکہ کشتواڑ میں عائد پابندیوںمیں منگل کے روز نرمی لائی گئی جبکہ بھدرواہ میںمنگل کی شام کچھ گھنٹوں کیلئے کرفیو میں نرمی کی گئی۔بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف متنازعہ ریمارکس اور ان کی حمایت میں مقامی دائیں بازو کے کارکنوں کی سوشل میڈیا پوسٹس پر فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال پیداہونے کے بعد گزشتہ جمعرات کو دونوں قصبوں(بھدرواہ اورکشتواڑ) میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ تمام9افراد کو احتجاج کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ۔پولیس نے اتوار کو ایک شخص کو مسجد میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سینئر پولیس اور سول افسران امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ بھدرواہ میں کرفیو میں منگل کو دیر سے شروع ہونے والے مرحلہ وار نرمی کی جائے گی۔حکام نے بتایا کہ کشتواڑ میں، دوپہرڈیڑھ بجے بجے سے پانچ گھنٹے کے لئے کرفیو میں نرمی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نرمی کے اعلان کے فوراً بعد دکانیں اور کاروباری ادارے کھل گئے۔پیر کو بھی انتظامیہ نے ڈیڑھ گھنٹے کیلئے پابندیوں میں نرمی کی تھی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس دوران لوگوں کو بازاروں میں جوق درجوق آتے اور ضروری اشیاء خریدتے ہوئے دیکھا گیا۔حکام نے بتایاکہ بھدرواہ قصبے میں بھی منگل کی شام کچھ وقت کیلئے پابندیوںمیں نرمی لائی گئی تاکہ لوگ ضروری گھریلوسامان اورادویات وغیرہ خریدسکیں ۔انہوں نے کہا کہ بھدرواہ اور کشتواڑ دونوں قصبوں میں احتیاطی اقدام کے طور پر براڈ بینڈ اور موبائل انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں۔










