Manooj Sinha

معصوم لوگوں کی ہلاکت قابل مذمت:لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا

جموں وکشمیرکی انتظامیہ ’بے گناہوںکوچھیڑئو مت ،اورگناہگاروںکوچھوڑئو مت‘کی پالیسی پرکاربند

کولگام//جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے نہتے اورمعصوم لوگوںکی ہلاکت کوسماج کیلئے ایک چیلنج اورامتحان قراردیتے ہوئے ہفتے کے روزکہاکہ جموں وکشمیرمیں ملی ٹنسی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ۔انہوںنے امن وامان کے بغیرترقی وخوشحالی کے حصول کوناممکن قرار دیتے ہوئے شہری ہلاکتوں کامقصد پولیس وسیکورٹی فورسزکوکسی غلط کارروائی پراُکساناہے تاکہ حالات کوبگاڑنے کوبہانہ بنایاجائے ۔جے کے این ایس کے مطابق جنوبی ضلع کولگام کے اہربل علاقہ میں قائم شدہ ماڈل ریزیڈنشیل سکول اور ٹرائبل یوتھ ہوسٹل کاافتتاح کرنے کے موقعہ پرایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے نہتے اورمعصوم لوگوںکی ہلاکت کوسماج کیلئے ایک چیلنج اورامتحان قراردیا۔انہوںنے کہاکہ حالیہ دنوں میںکی گئی شہری ہلاکتیں ملی ٹنٹوںکی مایوسی کامظہر ہے ،کیونکہ ہماری سیکورٹی فورسزنے ملی ٹنٹوںکی نکیل کسنے کاکام کیا ہے ۔جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ کشمیر میں حالیہ دنوںمیں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوںکے دوران نہتے اورمعصوم افرادکوموت کی نیندسلادیاگیا جو قابل مذمت ہے ۔انہوںنے گوپال پورہ کولگام میں گزشتہ ماہ ایک ہائی اسکول میں تعینات سانبہ جموںکی رہنے والی36سالہ اُستانی رجنی بالا کی ہلاکت کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایک اُستانی کوموت کی نیندسلادیاگیا جوبچوں کوتعلیم دیتی تھی ۔منوج سنہا نے کہاکہ سماج کوایسے وحشیانہ واقعات کی مذمت کرنی چاہئے اوراگر سماج ایسا نہیں کرے گا توہماراسماج انسانیت سے بنیادی اصول سے بھٹک گیاہے ۔انہوںنے کہاکہ کہ اگر ایک معاشرہ ایسی ہلاکتوں کی مذمت نہیں کرتا ہے تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے دور بھاگتا ہے۔جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے کہاکہ ملی ٹنٹ مایوسی کے عالم میں ٹارگٹ کلنگ کاسہارالے رہے ہیں کیونکہ کامیاب کارروائیاں عمل میں لاکر ہماری سیکورٹی فورسزنے ملی ٹنٹوںکی نکیل کسنے کاکام کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں یقین کیساتھ کہہ رہاہوںکہ جموں وکشمیرمیں دہشت گردی(ملی ٹنسی )آخری سانسیں لے رہی ہے اوربہت جلد عوام کودہشت گردی سے نجات ملے گی ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ پولیس اوردیگرسیکورٹی فورسزکوششوںمیں مصروف عمل ہیں کہ کشمیر سے ملی ٹنسی کامکمل خاتمہ اورصفایاکیاجائے ۔انہوںنے عوام کوقیام امن کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ امن وامان کے بغیرکسی بھی علاقے میں ترقی اورخوشحالی ممکن نہیں ۔انہوںنے کہاکہ جب امن قائم ہوگا توترقی کے دروازے کھل جائیں گے اورجب ترقی ہوگی توخوشحالی آئے گی ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے مزیدکہاکہ معصوم لوگوںکوموت کی نیدسلادینے کے پیچھے یہ سازش کارفرماہے کہ پولیس یاسیکورٹی فورسز سے کوئی ٖغلطی سرزد ہوجائے اورکوئی عام شہری ماراجائے تو امن مخالف قوتوںکوعوام کوبھڑکاکرسڑکوں سے لانے کابہانہ مل جائے گا،لیکن بقول منوج سنہا ہماری پولیس اورسیکورٹی فورسزنظم وضبط کی پابندہیں اوراُن سے ایسی کوئی غلطی سرزدنہیں ہوگی ۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کاکہناتھاکہ جموں وکشمیرکی انتظامیہ کی پالیسی واضح ہے ،اوروہ یہ کہ ’بے گناہوںکوچھیڑئو مت ،اورگناہگاروںکوچھوڑئو مت‘۔انہوںنے کہاکہ پولیس یاسیکورٹی فورسزکسی معصوم انسان یاعام شہری کیخلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کرے گی ،بلکہ اُن کی پوری توجہ کشمیرکی سرزمین سے ملی ٹنسی کاخاتمہ کرنے پرہی مرکوز رہے گی ۔منوج سنہا نے کہا کہ حکومت اور سیکورٹی فورسز جموں وکشمیر کی ترقی کیلئے محو جدوجہد ہے لیکن ترقی کا راستہ امن سے ہی طے کیا جا سکتا ہے اور ایسے حالات میں ترقی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا: ’جان بوجھ کر ٹارگیٹ ہلاکتیں کی جارہی ہیں تاکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز سے کوئی غلطی سر زد ہوجائے کسی عام شہری کی جان چلی جائے اور لوگ سڑکوں پر آسکیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سے یہ کام قطعی نہیں ہونے والا ہے، ہم ’گنہگار کو چھوڑو مت اور بے گناہ کو چھیڑو مت‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔