Chairman NCPCR

چیئرمین این سی پی سی آر نے جموں وکشمیر میں بین محکمہ جاتی جائزہ و مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی

سری نگر//چیئرمین نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس ( این سی پی سی آر) پرینک کانونگو نے آج جموںوکشمیر میں حقوق اطفال کی نگرانی کے لئے ایک بین محکمہ جاتی جائزہ و مشاورتی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ممبر سیکرٹری این سی پی سی آر ، ڈائریکٹر جنرل وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ، مشن ڈائریکٹر اِنٹگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کشمیر ، مشن ڈائریکٹر اِنٹگریٹیڈ چائلڈ پروٹیکشن سروسز اور محکمہ داخلہ ، صحت و طبی تعلیم ، سکولی تعلیم ، محکمہ ترقی و پنچایتی راج اور محنت و روزگار اور اور دیہی علاقوں کے اَفسران نے شرکت کی۔ابتداً، چیئرمین این سی پی سی آر کو یونین ٹیریٹری میں حقوق اطفال کے تحفظ کے لئے اُٹھائے گئے محکمانہ اقدامات، بچوں کے حقوق کی عمل آوری اور بچوں کے خلاف جرائم کی روکتھام کے لئے متعلقہ محکموں سے اِختیار کئے جانے والے عمل کے بارے جانکاری دی گئی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموںوکشمیر کے تمام 20 اَضلاع میں ضلع چائلڈ پروٹیکشن یونٹس ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں اور جووینائل جسٹس بورڈ قائم کئے گئے ہیں۔اِس کے علاوہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانے کے طریقے بھی تلاش کئے گئے۔چیئرمین این سی پی سی آر نے جموںوکشمیر میں حقوق اطفال کے حوالے سے مختلف قانون سازی ، پروگراموں ، پالیسیوں وغیرہ کی عمل آوری کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام قوانین ، پالیسیاں ، پروگرام اور اِنتظامی طریقہ کار بچوں کے حقوق کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا ہے جیسا کہ ہندوستانی آئین کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے کنونشن میں درج ہے جس کی بھارت نے 1992 میںتوثیق کی۔اُنہوں نے کہا کہ یہ اِدارہ بچوں سے متعلق اہم کارروائیوں کی عمل آوری کی نگرانی کرتا ہے جیسا کہ جووینائل جسٹس ایکٹ 2015، جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ ایکٹ 2012اور تعلیم کا حق ایکٹ 2009 کے تحت ان متعلقہ ایکٹ میں ذکر کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے تمام شراکت داروں کے لئے تربیت اور حساسیت کے پروگراموں پر زور دیا جس میں ان محکموں کے اَفسران شامل ہیں جس کے لئے این سی پی سی آر اَپنی زیادہ سے زیادہ مدد کرے گا۔چیئرمین نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس ( این سی پی سی آر) پرینک کانونگو نے میٹنگ کو بتایا گیا کہ جموںوکشمیر اور لداخ کے نو تشکیل شدہ یوٹیز میں حقوق اطفال کی خلاف ورزی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لئے این سی پی سی آر نے بچوں کے مسائل پر زیادہ مؤثر اَنداز میں کام کرنے کے لئے ایک سیل تشکیل دیا ہے۔اِس سلسلے میں اُنہوں نے مزید کہا کہ کمیشن نے جنوری 2020ء میں جموں وکشمیر اور لداخ کے بچوں کے لئے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف شکایات درج کرنے کے لئے ایک خصوصی آن لائن سہولیت ( اِی بٹن ) شروع کی ہے ۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ کمیشن نے جموں وکشمیر میںزائد اَز 50 سی سی آئیز کا معائینہ کیا ہے اور یہ ابھی جاری ہے۔کمیشن نے جے جے ایکٹ 2016پر جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی ( سی ڈبلیو سیز)کو اَپنے ماڈل رولز او رایم اے ایس آئی ایپ کے ساتھ سی سی آئیز کے معائینے کے لئے واقفیت کا کام بھی اَ نجام دیا ہے۔