Amarnath

امرناتھ یاترا کی اُلٹی گنتی شروع:غیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کوحتمی شکل

سیکورٹی اہلکار ہونگے ’ہائی ٹیک آلات‘سے لیس

سری نگر//اب جبکہ امرناتھ یاترا کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے،اوریاترامحض3ہفتے کے بعدیعنی 30جون سے شروع ہونے والی ہے تو جموں و کشمیر میں تعینات سیکورٹی اہلکار، خاص طور پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار’’پہلی بار‘ استعمال کئے جانے والے اعلیٰ ٹیکنالوجی یعنی ہائی ٹیک آلات سے لیس ہوں گے۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹنٹوںکی طرف سے’اسٹکی بم ‘یعنی چپچیابم کے استعمال کے حوالے سے خاص تشویش ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق نئی دہلی میں شائع ہونے والی ایک میڈیارپورٹ میں سیکورٹی حکام کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ سی آرپی ایف اہلکاروں کودئیے جانے والے ہائی ٹیک آلات کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔کیونکہ ایسے آلات کسی خاص مقصد کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ان جدیدترین آلات میں اسرائیل کے تیار کردہ کچھ ہائی ٹیک آلات بھی شامل ہیں۔ذرئع نے کہا، یاترا کے دوران نگرانی کیلئے ڈرون کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 50 سے زیادہ ڈرون کا استعمال صرف پہلگام اور بالہ تل کے جڑواں راستوں پر کیا جانا ہے۔سیکورٹی ذرئع نے مزید کہاکہ فوج، سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، جموں و کشمیر انتظامیہ اور امرناتھ شرائن بورڈ کے ممبران سمیت تمام متعلقہ فورسز کی جانب سے ایک’مربوط‘ کوشش کی جا رہی ہے۔میڈیارپورت کے مطابق ایک سیکورٹی افسر نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاںملی ٹنٹ گروپوںکے پاس ’’اسٹکی ‘یعنی چپکنے والے بموں‘‘کی موجودگی پر فکر مند ہیں ۔انہوںنے کہاکہ دھماکہ خیز مواد جو گاڑیوں کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے اور دور سے دھماکہ کیا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیاں یاترا کیلئے اپنے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہیں ۔سیکورٹی ذرئع نے کہاکہ گرفتارملی ٹنٹوں اور ان کے ہمدردوں سے پوچھ گچھ اور دیگر شواہد کے دوران یہ معلومات سامنے آئیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملی ٹنٹ گروپوں کے پاس چپکنے والے بم موجودہیں جبکہ فورسز کے ذریعہ کچھ’اسٹکی بم‘ برآمد کئے گئے ہیں۔ایک فورسزافسر کاحوالہ دیتے ہوئے میڈیارپورٹ میں کہاگیاہے ’’چونکہ چپکنے والے بم صرف شہری گاڑیوں میں ہی استعمال کئے جا سکتے ہیں، اس لئے یہ پیغام پھیلایا جا رہا ہے کہ کسی بھی گاڑی کو بغیر توجہ کے نہ چھوڑیں۔حکام نے بتایاکہ امسال30جون سے شروع ہونے والی43روزہ امرنتھ یاترامیں تقریباً تین لاکھ یاتریوں کے شرکت کرنے کا امکان ہے۔حکام نے بتایاکہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یاتریوںکی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو ان کی نقل و حرکت کے دوران الگ رکھا جائے گا۔سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ یاتریوں کا انتظام کرنے والوں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ گاڑیوں کو بلاوجہ نہ چھوڑیں۔