76 فیصد سے زیادہ کنبوںکے پاس اپنے مکانات، 24 فیصد کے پاس نجی گاڑی یا کار
سری نگر//جموں و کشمیر میںصرف24فیصدکنبے بے گھرہیں ، 76 فیصد سے زیادہ کے پاس اپنے مکان، 24 فیصد کے پاس اپنی کار ہے۔37.6 فیصد گھرانوں کے پاس کوئی زرعی زمین نہیں،تاہم37.8 فیصد کے پاس آبی اراضی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی سروے-5 نے7 جون 2022 کو شائع اپنی یک سروے رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ جموں اور کشمیر میں 76 فیصد سے زیادہ گھرانوں کے پاس اپنے گھر ہیں جبکہ تقریباً 24 فیصد گھرانوں کے پاس اپنی نجی گاڑی یا کار ہے۔سروے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جموں وکشمیرکے شہری علاقوں میں77.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں76.2 فیصد گھرانوں کے پاس اپنے مکانات ہیں جس کا مطلب ہے کہ عام طور پر 76.4 فیصد گھرانوں کے پاس رہنے کیلئے اپنے مکانات ہیں۔مزید برآں،37.6 فیصد گھرانوں کے پاس کوئی زرعی زمین نہیں ہے جبکہ37.8 فیصد کے پاس سیرابی(آبی ) زمین ہے، 20 فیصدگھرانوںیاکنبوں کے پاس صرف غیر سیرابی یاخشک زمین ہے اور4.1 فیصد گھرانوں کے پاس سیرابی اور غیر سیرابی دونوں زمینیں ہیں۔جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں 17.4 فیصد گھرانوں اور دیہی علاقوں میں 72.8 فیصد گھرانوں یعنی57.3 فیصد گھرانوں کے پاس کھیتی باڑی کے جانور ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق 96.8 فیصد آبادی کے پاس بینک کھاتے یاپوسٹ آفس اکاؤنٹ ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 18.3 فیصد گھرانوں کے پاس سائیکلیں ہیں،30.3 فیصد گھرانوں کے پاس موٹرسائیکلیں یا سکوٹر ہیں اور4.1 فیصد گھرانوں کے پاس جانوروں سے کھینچنے والی گاڑیاں ہیں۔نیشنل ہیلتھ اینڈ فیملی سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23.7 فیصد گھرانوں کے پاس نجی گاڑی یااپنی کار ہے، تاہم 46.1 فیصد گھرانوں کے پاس نہ تو سائیکل، کار، اسکوٹر اور نہ ہی جانوروں کی کھینچنے والی گاڑی ہے۔سروے رپورٹ میں مزید کہاگیاہے کہ جموں و کشمیر میں 12.7 فیصد گھرانے ہیلتھ انشورنس اسکیم یا مالیاتی اسکیم کے تحت آتے ہیں اس کے علاوہ 1.6 فیصد آبادی کے پاس ایل ایل آئی این مچھر جال ہے۔ مزید برآں رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ38.8 فیصد گھرانوں کے شہری علاقوں میں اور 61 فیصد دیہی علاقوں میں ہیں جس کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر میں 54.8 فیصد گھرانوں کے پاس غربت کی لکیر سے نیچے (BPL) کارڈ ہیں۔










