kheer bhawani

2سال بعدمیلہ کھیربھوانی کاروایتی انداز میں اہتمام

تاریخی مندرمیں دن بھر پوجاپاٹ،ہزاروںنے دی حاضری

مقامی مسلمان پھر بنے کشمیری پنڈتوں کے میزبان،گھروں میں کیاقیام وطعام کاانتظام

گاندربل// وسطی ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقہ میں روایتی مسلم پنڈت بھائی چارے کاجذبہ سرچڑھ کر بول رہاہے ،کیونکہ سالانہ میلہ کھیربھوانی میں شرکت کیلئے یہاں پہنچے کشمیری پنڈتوں کی مہمان نوازی مقامی مسلمان کررہے ہیں ۔مقامی مسلم برادری نے گھروں کے کمروںکوپنڈت مہمانوں کیلئے مخصوص رکھنے کیساتھ ساتھ اُن کی خاطرتواضع کابھی پورا بندوبست کیاہے ،اورساتھ ہی مقامی مسلم تاجروںنے کھیربھوانی مند ر کے باہر اسٹال لگاکر میلے کی رونق بڑھادی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابقسالانہ ماتا کھیر بھوانی میلہ بدھ کے روز یہاں شروع ہوا جس میں بڑی تعدادمیں مقامی ومہاجر کشمیری پنڈت،دیگر غیرمسلم اور سیاح شرکت کیلئے یہاں پہنچے ہیں ۔معلوم ہواکہ تقریباً3000سے زیادہ مقامی اورمہاجر پنڈتوں کے علاوہ سینکڑوں کی تعدادمیں دیگر غیر مسلم افراد بشمول سیاحوںنے تاریخی کھیربھوانی مندرمیں بدھ کوپورے دن جوق درجوق آکر حاضری دی اوریہاں ہونے والی خصوصی پوجا پاٹ میں شرکت کی ۔مقامی مسلمانوںنے کہاکہ تولہ مولہ میں واقع تاریخی کھیربھوانی مندر صرف کشمیری پنڈت برادری کی مقدس عبادتگاہ ہی نہیں ہے بلکہ یہاں ہرسال سجنے والا میلہ کشمیر کی مختلف برادریوں کے درمیان صدیوں پرانی ہم آہنگی کی ثقافت اور بھائی چارے کی علامت بھی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے یہاں آنے والے اپنے پنڈت بھائی بہنوں ،بچوں بچیوں اوربزرگوں کیلئے گھروںمیں خاص انتظامات کئے ہیں ،اورہمیں پنڈت برادری کی مہمان نوازی کرنے میں بڑی خوشی ملتی ہے اورسکون قلب بھی حاصل ہوتا ہے ،تولہ مولہ میں اپنے اہل خانہ کیساتھ رہنے والے ایک کشمیری پنڈت نے کہاکہ کشمیری ایک ہیں ،چاہئے مسلمان ہوں ،پنڈت ہوں یاکہ سکھ برادری کے لوگ ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے یہاں رہنے والے ایک پنڈت بھائی کے بیٹے کی شادی ماہ رمضان میں ہوئی ،اورروزوںکی وجہ سے یہاں دعوت کااہتمام نہیں ہوسکا ،لیکن اس کشمیری پنڈت نے مسلم دوستوں اورجانکاروںکیلئے گزشتہ ماہ دعوت کااہتمام کیا ،جس میں مسلم دوستوںکی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی ۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ مقامی مسلمانوںنے سالانہ میلہ کھیربھوانی کیلئے انتظامات کرنے میں ہمارامکمل ساتھ دیا۔اس کشمیری پنڈت نے مندرکے باہر سجے بازارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب ہمارے مسلمان بھائی ہیں ،جنہوںنے اسٹال لگائے ہیں اوراپنی دکانوںکویوں دلہن کی طرح سجایا ہے ۔مقامی کشمیری پنڈت نے کہاکہ کوروناوائرس کی وجہ سے تولہ مولہ میں 2سال بعدمیلہ کھیربھوانی کااہتمام کیاگیاہے اورہم کشمیری پنڈتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جہاں بھی رہتے ہیں ،یہاں پہنچیں اورمیلے میں شرکت کریں اور یہاں کے روحانی احساس سے لطف اندوز ہوں۔اس دوران بدھ کے روز کھیربھوانی مندرمیں دن بھر پوجاپاٹ ہوتی رہی اورہزاروںکی تعدادمیں پنڈت وردیگر مسلم یہاں باری باری آئے اورتاریخی مندرمیں حاضری دی ۔ سیاحوںنے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار کھیر بھوانی کا مندر دیکھا ہے اور وہ خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ایک خاتون سیاح نے کہاکہ ایک تسلی ہے اور ہم مسلمانوں اور پنڈتوں کو ایک ساتھ میلہ مناتے ہوئے دیکھ کر مسحور ہوتے ہیں۔