جعلی دستاویزات پر JKBankسے قرضہ حاصل

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی ، 24کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں فلیٹ ضبط

سری نگر//مالیاتی بدعنوانیوں کیسوںکی چھان بین کرنے والی قومی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ ایجنسی نے گوا اور دہلی میں فلیٹ اور ولا اور 24 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے فکسڈ ڈیپازٹ کو جے اینڈ کے بینک میں مبینہ طور پر بینک کے قرضے میں ڈیفالٹ سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں منسلک کیا ۔ جے کے این ایس کے مطابق منیش شرما، نوین بیری، ان کی شراکتی فرم میسرز لاونیا ٹریولز اور اروند چڈھا کی ملکیتی ’سنسکار گروپ‘ سے تعلق رکھنے والی جائیدادوں کو ضبط کرنے کا ایک عارضی حکم منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا تھا۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان میں کہاکہمنسلک اثاثے گوا میں ولا اور فلیٹ، دہلی اور فرید آباد میں فلیٹ اور دفتری جگہ اور فکسڈ ڈپازٹس کی شکل میں ہیں۔ایجنسی نے مزید کہا کہ منسلک جائیدادوں کی کل قیمت 20.39 کروڑ روپے ہے۔منی لانڈرنگ کا معاملہ گوا پولیس کی ایک ایف آئی آر سے نکلا ہے جو مبینہ طور پر سرمایہ کاروں کو ’بنجارہ ہلز پروجیکٹ‘ میں ولا دینے کا وعدہ کرکے تقریباً10 کروڑ روپے کی’دھوکہ دہی‘کرنے کے الزام میں ملزم کے خلاف درج کی گئی تھی جسے سنسکار گروپ نے انجونا گوامیں تیار کیا تھا۔منیش شرما نے ایک’ایگریمنٹ ٹو سیل‘ اور’سیل ڈیڈ‘کیا، جسے سول کم سب رجسٹرار کے سامنے عمل میں لایا گیا، خریداروں نے اُنہیں مقررہ وقت کے اندر ولاز فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق تاہم، جب پروجیکٹ تقریباً60سے70 فیصد تک مکمل ہو گیا، منیش شرما اور نوین بیری نے جموں اینڈ کشمیر بینک کے منیجر کے ساتھ مل کر بنجارہ ہلز پروجیکٹ کو جموں اینڈ کشمیر بینک لمیٹڈ، پانجی میں گروی رکھا اور جھوٹے دستاویزات جمع کر کے 20 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا۔اس کے بعد، قرض کی مزید رقم منیش شرما، نوین بیری، ان کی پارٹنرشپ فرم لاونیا ٹریولز اور اروند چڈھا کے بینک کھاتوں میں موڑی گئی تھی۔اس رقم کو انہوں نے مزید اپنے لئے استعمال کیا ۔جموں وکشمیر بینک نے مذکورہ لون اکاؤنٹ کو این پی اے (نان پرفارمنگ اثاثہ) قرار دیا۔