Protest

جموں اورجنتر منتر نئی دہلی میں جلوس ودھرنا

ٹارگٹ کلنگ واقعات اورحالیہ ہلاکتوںکیخلاف احتجاجی مظاہرے جاری

پنڈت وغیرمقامی ملازمین کا کشمیر واپس آکر ڈیوٹی انجام دینے سے صاف انکار

سری نگر / /پنڈت ملازم راہول بھٹ اورسانبہ کی اُستانی رجنی بالا کی ہلاکت کے بعدسے کشمیرمیں تعینات پنڈت ملازمین کیساتھ ساتھ صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کااحتجاج جاری ہے ۔جموںمیں مسلسل تیسرے روز ایسے ملازمین نے احتجاجی جلوس نکالاجبکہ جنترمنتر نئی دہلی میں پنڈتوںکے ایک گروپ نے ہدفی ہلاکتوں کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔اس دوران وادی میں مختلف مقامات پرقائم ٹرانزٹ کیمپوںمیں مقیم پنڈتوں نے بھی اپنی ناراضگی کااظہارکیا۔ناراض اوراحتجاجی ملازمین نے حکومت کی جانب سے اُنھیں محفوظ علاقوںمیں تعینات کرنے اورمزید معقول سیکورٹی فراہم کرنے کے اقدام کوبھی نامنظور کردیا۔جے کے این ایس کے مطابق حکومت کی جانب سے کشمیر میں تعینات پنڈت ودیگر ملازمین کوجموں منتقلی کوخارج ازامکان قرار دئیے جانے ،نیز ایسے سبھی ملازمین کو محفوظ علاقوںمیں تعینات کرنے اورمزید معقول سیکورٹی فراہم کرنے کے اقدام واعلان کے باوجود سنیچر کو بھی مختلف مقامات پرایسے ملازمین اورکشمیری پنڈتوںنے احتجاج کیا۔ خاتون استانی کی ہلاکت کے خلاف سنیچر کو جموں میں اساتذہ اوردیگرملازمین کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی جلوس نکالا اور توی پل پر دھرنا دیا جس وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کررہ گئی۔ ہفتے کی صبح جموں پریس کلب کے باہر اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے رجنی بالا کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ احتجاج میں شامل مظاہرین نے توے پل پر دھرناد یا جس وجہ سے گاڑیوں کی آواجاہی متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر میں حالات صحیح نہیں لہذا وہاں پر جتنے بھی پنڈت ملازمین تعینات ہیں اْنہیں فوری طورپر جموں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آئے روز غیر مقامی ہندئوں اور کشمیری پنڈتوں پر حملے ہو رہے ہیں، لہٰذا اس سب کو دیکھتے ہوئے ملازمین کی جموں تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے معقول سیکورٹی فراہم کرنے کے دعوئے کئے جارہے ہیں لیکن پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران غیر مقامی مزدوروں اور ہندوں پر تین حملے ہوئے ہیں۔مظاہرین نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اْنہیں فوری طورپر جموں ٹرانسفر کیا جائے۔ احتجاجیوں نے کہاکہ ہم ٹارگٹ کلنگ کے بعد موجودہ تشویشناک صورتحال میں اپنے فرائض دوبارہ شروع کرنے کیلئے کشمیر واپس نہیں جا ئیں گے،کیونکہ ہم خود کووہاں اب محفوظ تصور نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے احتجاج کا نوٹس لے اور ان کی کشمیر سے جموں خطے میں منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔احتجاجی ملازمین نے کہا کہ وہ پہلے ہی 15 سال کشمیر میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔اس احتجاج میں شامل خواتین اساتذہ نے سیکورٹی کے مسائل کی وجہ سے وادی میں واپس آنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کشمیریوں سے کوئی خطرہ نہیں لیکن دہشت گردکب حملہ کریں ،اُنھیں کچھ معلوم نہیں ۔ ایک خاتون نے کہاکہ کشمیر میں محفوظ زون کہاں ہیں؟ ہمیں باہر نکلنا ہے، اپنے بچوں کو مقامی سکولوں میں چھوڑنا ہے، اور اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے کشمیر میں مقامی آبادی کے ساتھ خوشی سے رہ رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ٹارگٹ کلنگ نے ان میں خوف پیدا کیا ہے۔ اس دوران جنترمنتر نئی دہلی میں پنڈتوںکے ایک گروپ نے ہدفی ہلاکتوں کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیا۔انہوںنے کہاکہ جب تک کشمیرمیں سیکورٹی صورتحال بہتر نہیں ہوتی ہے ،تب تک وہاں کشمیری پنڈت محفوظ نہیں ہیں ۔انہوںنے مرکزی حکومت سے سخت پالیسی اختیار کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال میں پنڈت کشمیرمیں خود کومحفوظ تصور نہیں کرتے ۔