کشمیر میں 18880 مستفدین کو سبسڈی والی فارم مشینری کی فراہمی
سرینگر / / جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے گذشتہ دو برسوں میں شروع کی گئی کسانوں پر مبنی اصلاحات نے کسان برادری کو سماجی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنایا ہے اور ان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ کر کے انہیں آتم نربھربنایا ہے ۔ جموں کشمیر اب 18918روپے فی کسان کی ماہانہ آمدنی کے ساتھ فارم کی آمدنی کے لحاظ سے سرفہرست پانچ ریاستوں اور یو ٹیز میں شامل ہے ۔ یو ٹی حکومت زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں منافع اور پائیداری کو بہتر بنانے کیلئے قدرتی کھیتی کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور قرض کی سہولت تک براہ راست رسائی فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے ۔ جموں و کشمیر کے محکمہ زراعت نے مقامی زرعی مصنوعات کی جارحانہ مارکیٹنگ اور برانڈنگ ، زراعت اور باغبانی کے شعبے میں میکانائیزیشن کا آغاز کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن ، تنوع ، بہتر کوالٹی کے بیج ، صلاحیت کی تعمیر ، جی آئی ٹیگنگ ، بینکنگ سہولیات کی توسیع ، مائیکرو ایری گیشن نے کسانوں کیلئے بھر پور منافع حاصل کیا ہے اور زراعت اور باغبانی کے شعبے میں ساختی تبدیلی لائی ہے ۔ جموں و کشمیر کے دس لاکھ سے زیادہ مستفید ہونے والوں کو پی ایم کسان اسکیم کے تحت پچھلے تین سالوں کے دوران 1983.29 کروڑ روپے کی براہ راست مالی مدد ملی ۔ اس کے علاوہ 12 لاکھ کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ ( کے سی سی ) جاری کئے گئے ہیں ان میں سے 9.46 لاکھ کے سی سی جموں کشمیرمیں لائیو اپریٹو ہیں ۔ جموں و کشمیر حکومت ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اسکیم کے تحت 22.15 لاکھ روپے فی ہیکٹر تک 50 فیصد سرمایہ فراہم کر رہی ہے ۔ ایک عام کسان کو زیادہ شرح سود کی وجہ سے مزید 50 فیصد سرمائے کا بندوبست کرنا مشکل ہوتا تھا ۔ ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ اسکیم کے تحت ایچ ڈی پی ایس کی شمولیت نے 7 برسوں کیلئے 3 فیصد سالانہ کی شرح سود پر قرضہ دستیاب کرایا ہے ۔ کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ کے تحت دستیاب کریڈٹ گارنٹی کوریج مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اسکیموں کیلئے 2 کروڑ روپے تک کے قرض کی پیشکش کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ ’ ووکل فار لوکل ‘ کے فروغ نے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں سے وابستہ ہر فرد کیلئے ترقی اور خوشحالی کے مواقع کی بہتات کھول دی ہے ۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق حکومت علم کی مہارت کو بڑھانے اور جموں و کشمیر کی کاشتکاری برادری کو عالمی منڈی کے رابطے فراہم کرنے کیلئے قومی اور بین الاقوامی ماہرین کو بورڈ میں شامل کر رہی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے سکاسٹ جموں میں پانچ روزہ ’ کسان میلہ ‘ کا افتتاح کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی زرعی یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ مشن موڈ پر کام کریں تا کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو آرگینک کھیتی اور باغبانی سے منسلک کیا جا سکے اور انہیں جدید ترین سائنسی معلومات سے روشناس کرایا جا سکے ۔ دیہی فرق کو پُر کرنا یو ٹی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس سلسلے میں روز گار میں اضافے اور دیہی نوجوانوں کو زراعت اور باغبانی کی صنعت سے منسلک کرنے کیلئے ایک مضبوط فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ انتظامیہ زرعی اسٹارٹ اپس میں شامل نوجوانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی حکومت نامیاتی پیداوار کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کیلئے ہر سال علم پر مبنی مداخلت کے ساتھ 500 کاروباری کسانوں کی مدد کر رہی ہے ۔ محکمہ زراعت کے افسران کسانوں اور دیہی آبادی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کھیت اور منڈی کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دے رہے ہیں ۔ کسانوں کو زرعی معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے اختراعات اور ٹیکنالوجیز کے فوائد کے بارے میں آگاہ اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات دیہی علاقوں کو جدید اقتصادی اکائیوں میں ضم کر دیں گے اور زرعی اور دیہی صنعت میں کاروبار کے بڑھتے ہوئے مواقع دیہی معیشت کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ باغبانی اب جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے ۔ جدید ترین مشینری سے لے کر نئے پودوں تک کاشتکاری کیلئے پانی کی فراہمی کے وسائل ، تربیت ، ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن کے رقبے میں توسیع ، پچھلے ایک سال میں بہت سے اختراعی اقدامات کئے گئے ہیں اور بہت سے مستقبل کیلئے پائپ لائین میں ہیں ۔ ڈیلیوری ایبلز جس کا مقصد کاشتکاری کے شعبے کی ترقی ہے ۔ باغبانی کے شعبے میں بہترین طریقوں کو فروغ دینے پر خصوصی زور دینے کے ساتھ علم اور خیالات کے تبادلے کی وجہ سے زرعی پیداوار کے معیار میں نمایاں بہتری درج کی گئی ہے ۔ کسانوں اور متعلقہ محکموں کے درمیان بہترین ہم آہنگی کی وجہ سے جموں و کشمیر ’ ایک ضلع ایک پروڈکٹ ‘ مہم میں ملک کے 5 بہترین پرفارمرز میں سے ایک بن گیا ہے ۔ مرکزی حکومت باغبانی کے شعبے میں اپنی 64 اسکیموں کے ذریعے کسانوں کو مختلف اجزاء کے تحت 50سے 100فیصد تک سبسڈی فراہم کر رہی ہے ۔ آسان اور بہتر پیداوار کیلئے فارم میکانائیزیشن کو فروغ دینے کے مقاصد کے ساتھ جموں و کشمیر میں 18880 مستفدین کو ٹریکٹر ، ٹیلرز ، ایم پی ایس ، آبپاشی پمپ اور متعلقہ زرعی اوزار فراہم کئے گئے ۔ اسی طرح باغبانی کی ترقی کیلئے مختلف اسکیموں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے جموں و کشمیر میں تقریباً 3666 چھوٹے اور بڑے بیداری پروگرام منعقد کئے گئے ۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پھلوں کی مارکیٹنگ کو فروغ دینے کیلئے سرینگر میں پہلی خریدار بیچنے والی میٹنگ کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا ۔ انڈو ڈچ ورک پلان میں ایم آئی ڈی ایچ اسکیم کے تحت حکومت ہند کی طرف سے زاوورا سرینگر اور ادھے والا جموں میں 1708.85لاکھ روپے کی کل پروجیکٹ لاگت کے ساتھ دو سنٹر آف ایکسیلنس کو منظوری دی گئی ہے ۔ یہ مراکز مظاہرے اور تربیتی اداروں کے ساتھ ساتھ کسانوں کیلئے پودے لگانے کے مواد کا ذریعہ بھی ہوں گے ۔ اس کے علاوہ 12000 کنال اراضی کو نئے پھلوں کی شجرکاری کے تحت لایا گیا ہے ۔










