سری نگر//جموں۔بارہمولہ ریلوے لائن پروجیکٹ ایک بار مکمل ہونے کے بعد خطے میں تیزتر ترقیاتی عمل ، خوشحالی اور ترقی کو متحرک کرے گا۔ جموں و کشمیر کی معیشت کے لئے یہ تمام موسمی اور مؤثر رابطہ سود مند ثابت ہوگااوراِس سے صنعت کاری ، خام مال کی ٹرانسپورٹیشن ، تجارت ، سیاحت اور روزگار پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔قومی سلامتی ، خوشحالی اور خطے کی سماجی و اِقتصادی ترقی کے لئے اِس خطے سے پائیدار رابطہ بہت ضروری ہے ۔ وسیع وسائل کے باوجود وادی کشمیر ترقی کے معاملے میں ریلوے رابطے کی کمی کی وجہ سے پیچھے ہے ۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مرکزی اور جموںوکشمیر یوٹی حکومتوں نے خطے سے ریل رابطہ قائم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں جس کے لئے متعدد ریلوے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں جو مختلف مراحل میں زیر تکمیل ہیں۔مرکزی حکومت نے اِس پروجیکٹ کو قوم کے لئے اِس کی اہمیت کے پیش نظر قومی پروجیکٹ قرار دیا ہے ۔ آئی آئی ٹی دہلی ، آئی آئی ٹی روڈکی ، جیوگرافیکل سروے آف اِنڈیا اور ڈی آر ڈی او جیسے اِدارے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور اِس کی عمل آوری میں مہارت فراہم کررہے ہیں ۔ اِس راستے پر دُنیا کے سب سے اونچے ریلوے پُل کی تعمیراور ہندوستان کا پہلا کیبل سٹے یڈریلوے پُل بھی نظر آئے گا۔اِس ریلوے لائن کے مکمل ہونے کے بعد ہر موسم میں آسان او رسستی ماس ٹرانسپورٹیشن سسٹم میسر ہوگی اور ملک کے شمالی ترین الپائن خطے کی مجموعی ترقی کے لئے ایک بہتر کام کرے گی۔ یہ منصوبہ سیکورٹی اور سماجی و اِقتصادی ترقی کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ایک آفیسر نے کہاکہ یہ جموںوکشمیر سے تیز تر صنعت کاری ، خام مال او رتیار مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن میں اہم کردار اَدا کرسکتا ہے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ خطے میں تجارت اور سیاحت کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِسی طرھ یہ اِس علاقے کی زراعت ، باغبانی اور پھولوں کی زراعت کی ترقی کے لئے ایک سود مند ثابت ہوگا۔ریلوے پروجیکٹ کے پہلے تین مرحلوں کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اور یہ لائن وادی کشمیر میں بانہال ۔ بارہمولہ اور جموں خطے میں جموں۔ اودھمپور ۔کٹراہ کے درمیان چل رہی ہے ۔اِس کے علاوہ کٹراہ ۔ بانہال سیکشن کے 111 کلومیٹر کے درمیانی حصے پر کام جاری ہے جو اِس کی ارضیات اور گہری گھاٹیوں کے ساتھ وسیع دریائی نظام کی وجہ سے تعمیر کے لئے سب سے مشکل حصہ ہے۔شمالی ریلوے کے ایک سینئر آفیسر کے مطابق وادی کشمیر کو 2023ء کے دوران جموں اور ملک کے باقی حصوں سے جوڑ دیا جائے گا جس سے وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ریل نیٹ ورک سے مؤثر رابطہ فراہم کیا جائے گا۔اودھمپور ۔ سری نگر ۔ بارہمولہ ریل لنک ( یو ایس بی آر ایل)پروجیکٹ کے کٹراہ ۔ بانہال سیکشن کے سمبر اور اَرپنچالا سٹیشن کے درمیان ہندوستانی ریلوے کی سب سے طویل ٹنل 49۔ٹی کی اہم ٹنل کو کامیابی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ۔اِس منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ 21ویں صدی کا اِنجینئرنگ کا شاندار منصوبہ ہوگا اور یہ منصوبہ ملک کی ترقی ، ترقی او رخوشحالی و سلامتی کی نئی داستان رقم کرے گا۔اِس برس ستمبر تک یونین ٹیریٹری میں چناب پر دُنیا کا بلند ترین پُل مکمل ہوجائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ چناب پر دُنیا کا بلند ترقین ریلوے پُل بنایا جارہا ہے ۔ اِس برس ستمبر میں مکمل ہوجائے گا جو کشمیر کو کنیا کمار سے جوڑ نے کے ہمارے مقصد کو پورا کرے گا۔‘‘ چناب پُل دُنیا کا سب سے اونچا ریل پُل وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے ریل کے ذریعے جوڑے گا۔ اسے ریکٹر سکیل پر آٹھ کی شدت کے زلزلے کو برداشت کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔جموں وکشمیر کے رِیاسی ضلع میں رِیاسی ریلوے سٹیشن کے لئے کام آخری مرحلے میں ہے۔105فٹ گھاٹی پر بنے پُل نمبر 39 پر کنکریٹ کی سلیبیں بچھائی گئی ہیں ۔ پُل کے لئے جتنے بھی ستون نصب کئے گئے ہیں ان میں درمیان والے ستون کی اونچائی قطب مینار سے زیادہ ہے ۔ فائونڈیشن کے اوپر پائلین کی اونچائی 193 میٹر ہے ۔ یہ پُل سطح سمندر سے 331 میٹر بلند ہے۔










