محنت کشوں کاعالمی دن ،EJCCاور فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں وکشمیرکی مشترکہ تقریب

جموں وکشمیر میں جامنی مشن نے کسانوں کی قسمت بد ل دی ہے

ضلع ڈوڈہ نے آروما مشن کے تحت ثمر آور نتائج حاصل کئے ہیں

سری نگر//جموںوکشمیر میں لیوینڈر کاشت نے کسانوں کی قسمت بد ل دی ہے ۔مرکزی حکومت کی جانب سے ’’ آروما مشن یا جامنی ریوولیوشن ‘‘ کے تحت جموںوکشمیر یوٹی کے کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے کی پہل ہے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ جامنی یا لیوینڈر اِنقلاب کا آغاز 2016ء میں مرکزی وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سائنسی اور صنعتی تحقیق کی نسل( سی ایس آئی آر) آروما مشن سے کیا تھا ۔ اِس مشن کا مقصد در آمد شدہ ارومیٹک آئیلز سے گھریلو اقسام کی طرف منتقل کر کے ڈومیسٹک ارومیٹک کراپ بیسڈ زرعی معیشت کو فروغ اور سپورٹ دینا ہے۔جموںوکشمیر کے تقریباً تمام 20اَضلاع میں لیوینڈر کی کاشت کی جاتی ہے ۔ مشن کے تحت پہلی بار کاشت کاروں کو مفت لیوینڈر کے پودے دئیے گئے جبکہ اِس سے پہلے لیوینڈر کاشت کرنے والوں سے 5سے 6 روپے فی پودا وصول کئے گئے ۔کسان آروما مشن کے تحت غیر روایتی ارومیٹک پلانٹس کی کاشت سے بہت خوش ہیں۔یہ مشن ضروری آئیلز کے لئے ارومیٹک کراپس کی کاشت کو فروغ دیتا ہے جن کی آروما اِنڈسٹری میں بہت زیادہ مانگ ہے ۔جموںوکشمیر میں کونسل آف سائنٹفک اینڈ اِندسٹریل ریسرچ ( سی ایس آئی آر ) اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف اِنٹگریٹیو میڈیسن جموں ( آئی آئی آئی ایم جموں) دو اِدارے ہیں جو آروما مشن کے آگے لے جانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ آروما اِنڈسٹری اور دیہی روزگار کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے زراعت ، پروسسنگ اور مصنوعات کی ترقی کے شعبوں میں مطلوبہ اِنٹرونشنوں سے آروما سیکٹر میں تبدیلی لانے کے لئے سی ایس آئی آر آروما مشن کا تصور کیا گیا ہے۔اِس سے ہندوستانی کسانوں اور آروما اِنڈسٹری کو مینتھول منٹ کی طرز پر کچھ دیگر ضروری آئیلز کی پیداوار اور برآمد میں عالمی رہنما بننے کے قابل بنانے کی اُمید ہے۔لیوینڈر کے کسانوں کے مطابق اِس کے کم سے کم ایک لیٹر تیل کی فروخت سے انہیں 10,000 روپے ملتے ہیں۔کسانوں نے کہا کہ ایک ہیکٹر زمین پر اُگائے جانے والے لیوینڈر سے انہیں کم سے کم 40 لیٹر لیوینڈر تیل ملتا ہے ۔لیو ینڈر کا پانی جو لیوینڈر کے تیل سے الگ ہوتا ہے ، اگر بتی بنانے کے لئے اِستعمال میں لایا جاتا ہے۔ہائیڈرو سول جو پھولوں سے کشید کرنے کی بعد بنتا ہے صابن اور روم فریشنر ز بنانے کے لئے اِستعمال کیا جاتا ہے۔آئی آئی ایم جموں فارمرس کے ایک آفیسر نے اَپنی پیداوار بیچنے کے لئے آئی آئی ایم جموں سے مدد حاصل کی ۔ کئی نجی کمپنیاں کسانوں سے لیوینڈر کے عرق بھی خریدتی ہیں۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈوڈہ ضلع اِس سلسلے میں سب سے آگے ہے اور اِس ضلع میں سی ایس آئی آر ۔آئی آئی آئی ایم جموں کی طرف سے چارڈ سٹ لیشن یونٹ قائم کئے گئے ہیں۔ضلع ڈوڈہ کے دُور دراز علاقوں سے کسان لیوینڈر تیل نکالنے کے لئے اِن پودوں تک پہنچتے ہیں۔ڈوڈہ کے زائد اَز 800 ترقی پسند کسانوں نے ارومیٹک کھیتی کو اَپنایا ہے جو اَب منافع بخش ثابت ہو رہی ہے۔ سی ایس آئی آر ۔ آئی آئی آئی ایم جموں نے 9؍ فروری 2021ء کو ایک عظیم الشان لانچ تقریب کے دوران پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد آروما مشن مرحلہ دوم کا اعلان کیا ۔ اِس مشن کا مقصد 2024ء تک لیوینڈر کاشت کو 1,500 ہیکٹر تک بڑھانا ہے۔اِس تقریب میں اُترا کھنڈ ، ناگا لینڈ اور آسام کے کسانوں نے شرکت کی۔ ڈوڈہ کے لیوینڈر کسانوں کی کامیابی سے متاثر ہو کر اُترا کھنڈ کے حکام نے ان میں سے کچھ کو اَپنے کسانوں کو تربیت دینے کی دعوت دی۔نیشنل بینک فار ایگر ی کلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( نبارڈ ) نے کئی جگہوں پر ایک ایف پی او ( فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن ) تشکیل دی ہے تاکہ لیوینڈر کسانوں کو مدد او رخدمات فراہم کی جاسکیں اوراِن پٹ اور تکنیکی خدمات ، مارکیٹنگ ، پروسسنگ اور کاشت کے دیگر پہلوئوں کا احاطہ کیا جاسکے۔محکمہ زرعی پیداوار اور بہبود کساناں نے بڑھتی ہوئی مانگ کو پور اکرنے کے لئے لیوینڈر کے پودوں کی پیداوار کو تیز کرنے کے لئے قدرتی طور پر ہوادار سیمی ہائی ٹیک پولی گرین ہائوسوں کو سپانسر کیا ہے ، جہاں پودے کو سائنسی طریقے سے اُگایا جائے گا جو کہ آخر کار کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقبہ کو لیوینڈر فارمنگ کے تحت لانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔