Civil Services , Education

جموں وکشمیر کالجوں کی 1500 طالبات ڈیٹا سائنس میں سکالر شپ حاصل کریں گی

اے آئی جے اینڈ کے، اَپ گریڈفائونڈیشن نے معاہدے پر دستخط کئے

سری نگر//جموںوکشمیر کے ڈگر ی کالجوں کی 1500طالبات کو سکالر شپ سے نوازا جائے گا تاکہ وہ مصنوعی ذہانت سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسی جدید ٹیکنالوجیوں میں اعلیٰ معیار اورٹیکنالوجی پر مبنی آن لائن ہنر مندی کے پروگرام شروع کرسکیں۔ اِس سلسلے میں ایک تجویز پر اعلیٰ تعلیم محکمہ جے اینڈ کے اور اَپ گریڈ فائونڈیشن۔ایڈ ٹیک کمپنی اَپ گریڈ کے اِنسان دوست اور غیر منافع بخش ڈویژن نے مشترکہ طور پر اتفاق کیا تھا۔ اَپ گریڈ فائونڈیشن اَپنے سماجی اثرات کے اقدام ۔ ودیا شکتی سکالر شپس سے مستحق اور شارٹ لسٹ شدہ خواتین سیکھنے والوں کی مدد کرنے کے لئے ٹیک پر مبنی پروگراموں کے لئے فیس کی صدفیصد چھوٹ سے اِس اقدام کی حمایت کرے گی۔تاہم یہ اِقدام صرف آن لائن کورسوں اور سکالر شپس تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اِس کا مقصد اِضافی فوائد سے ایک ہمہ جہت تعلیمی تجربہ فراہم کرنا ہے جیسے کہ ویب نار اور تبادلہ خیال سے وَن۔ آن۔ وَن رہنمائی اور سیکھنے اور اِنٹرن شپس اور ملازمت کے مواقع کی شکل میں مضبوط پلیس منٹ سپورٹ بھی پیش کرے گا جو اَپ گریڈ فائونڈیشن سے سیکھنے والوں کے لئے کیئرئیر کے مثبت نتائج کو قابل بناتا ہے ۔ یہ اِقدام پسماندہ طبقوں اور پسماندہ پس منظر سے آنے والی خواتین سیکھنے والوں کو تعلیم اور بااختیار بنائے گا اور انہیں رول ماڈل کے ساتھ جوڑ کر رہنمائی اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دے گا۔ یہ مینجمنٹ میں معروف پی جی کورسز او رہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ایگزیکٹیو پی جی پروگرام کے لئے 70 فیصد سکالر شپ بھی فراہم کرے گا۔اگر چہ اعلیٰ تعلیم تک رَسائی اور ہنر پر توجہ دینا قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہم اہداف میں شامل ہیں لیکن روزگار، باوقار ملازمتوں اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے متعلقہ ہنروں بشمول فنی اور پیشہ ورانہ ہنروں کے حامل نوجوانوں کی تعداد میں خاطر خواہ اِضافہ کرنا ، دیر پا ترقیاتی اہداف ( ایس ڈی جیز) 2030کے حصول میں بھی نمایاں کردار اَدا کرے گا۔وبائی امراض سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہونے کے ساتھ بالخصوص دُور دراز علاقوں کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے حوالے سے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ خواتین سیکھنے والوں کو ڈیجیٹلائزیشن اور اَپ سکلنگ سے مین سڑیم جاب مارکیٹ تک رَسائی حاصل کرنے میں اَپ گریڈ فائونڈیشن کا تعاون ایک زبردست فروغ ہوگا۔مذکورہ اِقدام ابتدائی طور پر 16کالجوں میں متعارف کیا جارہا ہے لیکن بعد میں اِس میں توسیع کی جاسکتی ہے۔یہ اعلیٰ تعلیم محکمہ کے بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے جو دُور دراز اور دُور دراز علاقوں اور بالخصوص گرل چلڈرن تک معیاری تعلیم ، ہنر اور علم تک رَسائی کو بہتر بناتا ہے ۔ اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ ( آئی آئی ایم ) روہتک پہلے سے ہی ایک اِنٹرپروینیورل اِنٹرشپ پروگرام چلارہا ہے جس کا جموںوکشمیر یوٹی کی خواتین سیکھنے والوںپر ہے۔ محکمہ بھی بڑے پیمانے پر ہنرمندی کے اِقدامات کو فروغ دے رہا ہے اور اس نے سکل ایجوکیشن کو بغیر کسی رُکاوٹ کے مرکزی دھارے کی تعلیم کے ساتھ مربوط کیا ہے ۔ایڈ آن سکل کورسز اَپ 12سے 18فارمیٹ میں 30کریڈٹ انٹگریٹیڈ کورسز کے طور پر پیش کئے جائیں گے جس میں 12 کریڈٹس یا تو ایمبیڈ ڈ ہوں گے یا اِضافی اجزأ کے طورپر جبکہ 18کریڈٹس کی این ایس ڈی سی کے سر ٹیفکیشن کے تحت متعلقہ سیکٹر سکل کونسلوں سے ہنر کی تربیت کے طورپر پیش کیا جائے گا۔ جموںوکشمیر کے اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں ہنر کی ترقی کے بنیادی ڈھانچے میں ایچ اِی آئیز میں بنیادی ڈھانچہ ایک ہب او رسپوک ماڈل میں تشکیل دیا گیا اور 15ہب اور 75سپوک سینٹر پہلے سے ہی 10کروڑ روپے کی رقم سے قائم کئے گئے ہیں۔پیش کردہ ڈومینز میں الیکٹرانکس ، کمپیوٹرز اینڈ ایمپ ، آئی ٹی ،باغبانی ، زراعت ، فارمیسی ، پیرا میڈیکل ، فوڈ سائنس ٹیکنالوجی ، فیشن ٹیکنالوجی ، مگس بانی ، غنچۂ ابریشم ، ویٹرنری سائنسز ، فائنانشل مینجمنٹ ، اِنجینئرنگ وغیرہ شامل ہیں۔محکمہ انوویشن او رانکیو بشن کے لئے 15مراکز قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنارہا ہے تاکہ سٹارٹ اپس کی حوصلہ فزائی کی جاسکے اور اُمید افزا خیالات پیدا کرنے میں مدد کی جاسکے ۔ یہ کالجوں میں تحقیق اور اِختراعی مرکز بھی قائم کررہا ہے اور تحقیق اور اِختراع کا ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لئے یونیورسٹیوں کو مینٹر انسٹی چیویشنز کے طور پر نامزد کر رہا ہے۔