مریض پریشان،نجی لیبارٹریوں پرجانے کی مجبوری
ہندوارہ//ہندوارہ کے ضلع اسپتال میں مریضوں نے شکایت کی کہ ضلع اسپتال ہندوارہ میں ایکسرے مشین گزشتہ دو ماہ سے بیکار پڑی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھرکے مطابق ضلع اسپتال ہندوارہ کو نئی ایکسرے مشین ایک سال قبل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید مشینری صرف چند ماہ کے لیے کام کرتی تھی، اس کے بعد سے یہ ناکارہ ہے۔ مریضوں کے مطابق ہسپتال میں صرف سینے کے ایکسرے کییجاتے ہیں۔ دوسرے ایکسرے کے لیے انہیں پرائیویٹ کلینک میں جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جہاں ان سے400 روپے فی ایکسرے وصول کیے جا رہے ہیں۔ہسپتال کے ایک مریض، گلزار احمد نے نے میڈیا کو بتایا کہ پرانی ایکسرے مشین معمول کے مطابق بہت زیادہ وقت لے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ دور دراز سے آ رہے ہیں لیکن انہیں وہ بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جو ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ہونی چاہئے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ ڈاکٹر نثار وانی نے اس حوالے سے بتایا کہ یہ مشینری جموں وکشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ نے فراہم کی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مشینری پچھلے 2ماہ سے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی یہ معاملہ متعلقہ محکمے کے ساتھ اٹھا چکے ہیں۔ ادھر اسپتال کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دو مہینوں میں انجینئرز نے مشینری میں خرابی کو دور کرنے کے لیے تین بار ہسپتال کا دورہ کیا لیکن وہ ایکسرے مشین میں موجود خرابی کو دور کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل جے کے ایم ایس سی ایل کو ایک خط بھی دیاگیا تھا، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس نے مزید کہا کہ یہ مشین کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس سے مریضوں کو مزید پریشانی ہو سکتی ہے۔دریں اثنا ڈاکٹر نثار نے کہا کہ انہوں نے وارنٹی کے تحت آنے والی مشین کی تبدیلی کے لیے جنرل منیجر جموں وکشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈکو خط بھی لکھا ہے۔ لیکن اس کا جواب ابھی ملنا باقی رہ گیا ہے ادھر مریضوں نے حکام بالا سے اس معاملے کو سختی سے لینے کا مطالبہ کیا۔










