سرینگر//ملک کی تاریخ میں دوسری بار جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اراکین جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے۔کے این ایس کے پاس دستیاب تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر سے منتخب ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ 1992 کے صدارتی انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کی غیر موجودگی اور لوک سبھا کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے تھے۔ریاست میں ملٹنسی کے باعث جموں و کشمیر 1990سے 1996 تک ریکارڈ چھ سال تک صدارتی راج کے تحت رہا اور 1991 کے لوک سبھا انتخابات جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہو سکے تھے۔1992 کے صدارتی انتخابات کے برعکس اس بار تاہم جموں و کشمیر کے پانچ لوک سبھا ممبران انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال سکیں گے جبکہ یہ دوسری مرتبہ ہوگا کہ جموں و کشمیر اسمبلی ممبران صدارتی انتخابات کے لیے الیکٹورل کالج کا حصہ نہیں ہونگے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین پر مشتمل ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق کہ جموں و کشمیر 26 جنوری 1950 کو صدارتی انتخابات کے لیے الیکٹورل کالج کا حصہ بن گیا جب آئینی آرڈر 1950 میں جاری ہوا اور اس حکمنامے کے مطابق جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے اراکین اور ریاست کی طرف سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بھیجے گئے نمائندوں کو انتخابات میں ووٹنگ کا حق حاصل ہوگا جبکہ 1950 کے حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات کے لیے ریاست کی آبادی 44 لاکھ 10 ہزار سمجھا جائے گا۔1967 سے پہلے جموں و کشمیر میں لوک سبھا کے انتخابات نہیں ہوئے تھے اور اس کے بجائے اسمبلی کی سفارشات پر ایوان میں جموں و کشمیر کے سلاٹ بھرے جاتے تھے۔کے این ایس کے مطابق 1957 کے انتخابات میں جموں و کشمیر کے ہر ایم ایل اے کے ووٹ کی قیمت 59 تھی جبکہ کہ 2017 میں ہونے والے آخری صدارتی انتخابات میں یہ 72 تھی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اسمبلی ممبران نے رام ناتھ کووند کو ووٹ دیا تھا جبکہ اپوزیشن این سی اور کانگریس کے ممبران نے میرا کمار کے حق میں ووٹ دیا تھا۔










