سری نگر//جموںوکشمیر حکومت یوٹی میںہیلتھ نیٹ ورک کو بڑھانے اور وسعت دینے کے لئے اَنتھک محنت کر رہی ہے تاکہ بیمار لوگوں کو ان کی دہلیز پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ سابقہ ریاست سے آرٹیکل 370 کی منسوخی نے جموںوکشمیر یوٹی میں متعدد اِنقلابی پالیسیوں اور اِنٹرونشنوں کے مکمل نفاذ سے جموںوکشمیر میں ترقی اور ترقیاتی منظر نامے کو مزید تیز کیا۔جموں وکشمیر اِنتظامیہ جموںوکشمیر یوٹی کے غریب مریضوں کے لئے متعدد مراعات کو یقینی بنانے کے علاوہ تین شعبوں ’’روکتھام ، بہتر علاج او رنگہداشت ‘‘پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔اِس سلسلے میں جموںوکشمیر میں سات نئے میڈیکل کالج ، دو ایمز ، تقریباً 1000 ہیلتھ کیئر اور فلاح و بہبود کے مراکز ، پانچ نئے نرسنگ کالج قائم کئے گئے ہیں۔اِس کے علاوہ بی ایس سی پیرا میڈیکل کورسز شروع کئے گئے ہیں اور میڈیکل نشستوں میں تقریباً صد فیصد سے زیادہ اِضافہ کیا گیا ہے ۔حکومت کی توجہ نہ صرف جموں اور سری نگر میں بہترین پرائیویٹ ہسپتال بنانے پر ہے بلکہ اَضلاع اور دیگر دُور دراز علاقوں میں ہسپتالوں کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے ۔جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے جے اینڈ کے ہیلتھ کیئر انو سٹمنٹ پالیسی ( ایچ سی آئی پی ) کا آغاز کیا تاکہ پرائیویٹ کھلاڑیوں کو یونین ٹیر یٹری میں ہیلتھ کیئر اِنفراسٹرکچر قائم کرنے کی ترغیب دی جاسکے۔اِس ہیلتھ کیئر انوسٹمنٹ پالیسی کا مقصد جموںوکشمیر یوٹی حکومت کے اَپنے شہریوں کو ان کے دروازے پر معیاری ہیلتھ کیئر فراہم کرنے کے عزم کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ اِس کے علاوہ دستاویز جموںوکشمیر یوٹی کے لوگوں کوپرائمری ، سکینڈری اور ٹریشری کیئر سینٹروں میں ہیلتھ کیئر کی مکمل خدمات کی دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔دریں اثنأ گاندربل میں 32.50 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا یونانی میڈیکل کالج اور ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس کے لئے مرکزی معاونت والی سکیم کے تحت وزارتِ آیوش سے 17 کروڑ روپے، جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے 18.25 کروڑ روپے اور نیشنل آیوش مشن کے تحت کالج کو فعال بنانے کے لئے38.82 لاکھ روپے کی مالی امداد دی گئی ہے۔ کالج میں بی یو ایم ایس کورس میں 60 طلباء کے داخلے کی گنجائش ہے۔ اِس کے علاوہ 60 بستروں کی سہولیات کا ہسپتال بھی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزارتِ آیوش نے قومی آیوش مشن کے تحت جموں وکشمیر میں کئی دیگر پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے اور سابق مرکزی معاونت شدہ سکیموں بشمول اکھنور میں ایک گورنمنٹ آیورویدک میڈیکل کالج ، کپواڑہ، کولگام، کشتواڑ، کٹھوعہ اور سانبہ اَضلاع میں 50 بستروں کے پانچ مربوط آیوش ہسپتالوں کے علاوہ 35 سینڈ ایلون آیوش ڈسپنسریوں کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنا اور آیوشمان بھارت کے فلیگ شپ پروگرام کے تحت 2023-24 تک مرحلہ وار 571 آیوش ڈسپنسریوں کو ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹروں کے طور پر فروغ دیناہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے صحت شعبے میں ہونے والی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہیلتھ کیئر کے متوازن ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لئے نئی اِصلاحات متعارف کر رہی ہے جو کہ سماجی مساوات کو فروغ دینے کے لئے آسانی سے قابل رَسائی معیاری صحت سہولیات کو یقینی بناتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ،’’ہیلتھ کیئر شعبے میں یہ اہم پیش رفت حقیقی معنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خود انحصاری کے وژن کی علامت ہے۔ دُور دراز کے مقامات کے لئے صحت کی جدید سہولیات میں بہترین کارکردگی کا حصول اور لوگوں کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کے لئے شہری اور دیہی تقسیم کو کم کرنا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہیلتھ کیئر شعبے میں اصلاحات کی ہماری کوششیں متاثر کن رہی ہیں ۔ ہم نے وزیر اعظم کی رہنمائی میں ایک جامع اور طویل مدتی قومی نظریۂ سے صحت بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کیا ہے اور یہاں تک کہ دُور دراز کے علاقوں میں بھی اَب مناسب ، سستی اور قابل اعتماد صحت سہولیت میسر ہیں۔جموں وکشمیر ملک میں سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔ صحت بنیادی ڈھانچے کے کچھ قابل ذکر پروجیکٹوں میں جموں اور کشمیر صوبہ میں 4000 کروڑ روپے کی لاگت سے دو نئے ایمز شامل ہیں ۔اِس کے علاوہ 1,595 کروڑ روپے لاگت سے سات نئے گورنمنٹ میڈیکل کالجز ، دس نئے نرسنگ کالجز کی لاگت تقریباً60کروڑ روپے اور پانچ نرسنگ کالجوں کو اَپ گریڈ کیا گیا ہے۔اِسی طرح جموں و کشمیر صوبہ میں 240 کروڑ روپے کی مالیت کے دو ریاستی کینسر اِدارے قائم ہو رہے ہیں اور کیپکس کے تحت 274 پروجیکٹس بے مثال ہیلتھ کیئر کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے چلائے جارہے ہیں۔آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ( اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی ) کے ساتھ ہم آہنگی میں اے بی پی ایم جے اے وائی صحت سکیم کے تحت تقریباً55.56 لاکھ مستفید ین کو پہلے ہی رجسٹرکیا جاچکا ہے ۔اِس کے علاوہ اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی کے تحت منظور شدہ 1,592 میڈیکل پیکیج جموں وکشمیر صحت سکیم کے اِستفادہ کنند گان کے لئے قابل رَسائی ہیں۔
جاوید ڈار نے ایف آئی سی سی آئی لیڈیز آرگنائزیشن کے وفود سے ملاقات کی
وزیراعلیٰ نے جموںوکشمیر محکمہ سیاحت کے میگزین ’ سِکس سیزنز۔شِشر‘ کی رسم رونمائی اَنجام دِی
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ’ مٹی سے مقام تک‘ کتاب کی رسم رونمائی اَنجام دِی
قانون سازوں اورمختلف وفود نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ملاقات کی
وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے سمر زون کے دسویں جماعت کے نتائج پر طلباء کو مُبارک باد دِی
نائب وزیراعلیٰ نے دومیل۔کٹرہ۔ رِیاسی ۔ بمبلافورلین سڑک پروجیکٹ کے ذریعےبہتر رابطہ کاری پر زور دیا
این زیڈ اے ٹی آئی اور آر آئی ایچ ایف ڈبلیو نے جے کے اے ایس پروبیشنروں کیلئے بی ایل ایس پر تربیت سیشن کا اِنعقاد کیا
دسویں جماعت کے سمر زون کے نتائج کا اعلان اور 88.85فیصد طلبأکامیاب قرار
نشہ مُکت جموںوکشمیر ابھیان
شانت مانو نے کٹھوعہ میں خصوصی نظر ثانی کیمپوں کا معائینہ کیا ،اہل ووٹرز کے صد فیصد اندراج پر زور دیا










