بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی سپلائی بھی متاثر،وادی میں ہاہا کار
سری نگر//جموںو کشمیر میں بجلی سپلائی کی ابتر صورتحال سے بجلی صارفین کا پیمانہ صبر سے لبریز ہوا ہے اور لوگوں نے شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ گائوں دیہات میں بھی بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف سڑکوں پر نکلنا شروع کیا ہے ۔ وادی میں متعقدد مقامات پر خواتین کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر اور جموں میں بجلی بحران کے خلاف مرد و زن کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔لوگوں نے بتایا جہاں وہ بجلی کی شدید کٹوتی سے پریشان ہیں وہی دوسری جانب پینے کے پانی کی اب شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس وجہ سے لوگ دونوں اہم سہولیات سے محروم ہوئے ہیں ۔بدھ کے روز شہر سرینگر کے بٹہ مالو سری نگر میں بھی بدھ کے روز خواتین نے بجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے۔لوگوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے کئے جا رہے دعوئے زمینی سطح پر میل ہی نہیں کھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دن بھر صرف دس منٹ تک ہی بجلی کو بحال کیا جاتا ہے باقی اوقات سارا علاقہ گھپ اندھیرے میں ڈو ب جاتا ہے۔ادھر سری نگر کے لاوے پورہ علاقے میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے پی ڈی ڈی کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے۔خواتین نے بتایا کہ رواں ماہ کی بجلی بل وہ بینکوں میں جمع نہیں کریں گے۔اسی طرح جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں بھی ٹریڈریس ایسو سی ایشن اور سٹیزنز کونسل کی جانب سے بعد نماز ظہر کانقاہ فیض پناہ ترال سے ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے جس میں لوگ بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کر کے فوری طور سپلائی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا علاقے میں ترال میں باقی وادی سے صورتحال مختلف ہے جہاں منٹوں کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جموں شہر میں بدھ کے روز مرد و زن سڑکوں پر نکل آئے اور انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ پچھلے 20 دنوں سے جموں وکشمیر میں بجلی بحران نے سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے اور انتظامیہ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کر پارہی ہے۔انہوں نے بتایا بجلی کی عدم دستیابی کے باعث اب پینے کے پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے کیونکہ واٹر سپلائی اسکیمیں مکمل طورپر ٹھپ ہیں۔لوگوں نے حکام پر حقیقت سے بعید کے بیانات جاری کرنے کا الزام لگایا ہے ۔انہوں نے لوگ بجلی کی عدم دستیابی کے لوگ پرانے طرز پر لکڑی جلا کر کھانا تیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔










