جی ڈی پی نمو میں جموں وکشمیر چار ریاستوں اور یوٹیوں میں سرفہرست
سری نگر//کووِڈ وبائی مرض کی سست روی کے باوجود جموںو کشمیر نے مجموعی ڈومسٹک سٹیٹ پروڈکٹ میں ملک کی سرفہرست چار ریاستوںاوریوٹیوں کے اعداد و شمارمیں جی ایس ٹی کی وصولی میں سب سے زیادہ شرح نمو حاصل کیا۔جموں و کشمیر حکومت نے سال 2021-22 ء میں 15217.17 کروڑ روپے (25.70 فیصد شرح نمو)کی آمدنی حاصل کی جو 2020-21 ء میں 12105.95 کروڑ روپے (17.02 فیصد شرح نمو) ، 2019-20 ء میں 10345.46 کروڑ روپے (8.18 فیصد) اور 2018-19 ء میں 9562.80 کروڑ روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پورے جموں و کشمیر میں ایس جی ایس ٹی، آئی جی ایس ٹی، معاوضہ، ڈاک ٹکٹ، ایم ایس ٹی اور ایکسائز کلیکشنز سے ریونیو وصول کیا گیا ہے۔دیگر ریاستوں کی معیشت پر کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کا طویل او رشدید اَثر دیکھا گیا ۔ہندوستان کی کئی ریاستوں میں جی ایس ٹی کی وصولی میں کمی آئی جبکہ جموںوکشمیر میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 26 فیصد اِضافہ درج کیا گیا۔محکمہ خزانہ کے ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ وصولی میں اِضافہ جموںوکشمیر یوٹی میں مالیاتی نظم و ضبط لانے کے لئے متعارف کئے گئے مالیاتی اصلاحات کے سلسلے کی وجہ سے ہوا ہے ۔یہ ان اصلاحات کا نتیجہ تھا کہ یونین ٹیریٹری کو مالی سال 2022-23ء کے لئے 1.12 لاکھ کروڑ روپے مالیت کا بجٹ دیا گیا تھا جوکہ 2021-22ء کے گذشتہ مالی برس میں 1.8لاکھ کرو ڑ روپے تھا۔مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار میں کہا گیا ہے یہ 2018-19 ء میں 9,229 ترقیاتی کاموں پر 67,000 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جب کہ 2020-21ء میں، 21,943 پروجیکٹوں کو صرف 63,000 کروڑ روپے خرچ کرکے مکمل کیا گیااورکیا گیا کام دوگنا سے بھی زیادہ تھا جبکہ لاگت 4000 کروڑ روپے کم تھی۔محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021-22 ء میں پہلے کے مقابلے میں 30 فیصد کم اخراجات ہوئے ہیں جبکہ مکمل کئے گئے کام پانچ گنا زیادہ تھے۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے گذشتہ برس صنعتوں اور خدمات شعبے میں 33,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے جو 1947 سے اب تک کی گئی 15,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے دوگنا ہے۔انتظامیہ کیلنڈر سال 2022 ء کے اختتام تک 75,000 کروڑ روپے کی ممکنہ سرمایہ کاری کی توقع کر رہی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 75 برسوں میں خطے میں ہونے والی سرمایہ کاری سے پانچ گنا زیادہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑی تبدیلیوں کے بعد مالیاتی شفافیت دیکھی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ جب جموںوکشمیر یوٹی سمیت پورا ملک وبائی مرض کی زد میں تھا اور کئی ریاستوں کے گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی درج کی گئی تھی اورجموں و کشمیر میں یہ 26 فیصد بڑھ گئی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ ملک بھر کی کئی بہتر ریاستوں سے جموںوکشمیر نے غیر معمولی مالی شفافیت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ اتل ڈولو نے کہا کہ 2021-22ء کے دوران پیدا ہونے والی متاثر کن ٹیکس آمدنی جموںوکشمیر یوٹی میں کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ٹیکس کی مناسب منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی، ٹیکس قوانین کے مؤثر عمل آوری سے نظام میں شفافیت اور جواب دہی لانے کے اقدامات نے جموں و کشمیر میں محصولات کی وصولی کی رفتار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔اٹل ڈولو نے کہا کہ محکمہ خزانہ نے وبائی امراض کے بعد معیشت کو صحیح راستے پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ،’’گذشتہ مالی برس میںٹریجریری مینجمنٹ بھی قابل ذکر تھا اور ٹھیکیداروں کے تمام تصدیق شدہ بلوں کو کلیئر کیاگیا ہے اور بروقت ادائیگی کی گئی ہے۔‘‘دریں اثنا، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مالی برس 2022-23 ء کے جموں و کشمیر بجٹ کی ستائش کی اور کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی ضروریات اور اُمنگوں کو پورا کرے گا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ 2022-23 کے بجٹ کا بنیادی ہدف جموںوکشمیر یوٹی کے ہر علاقے کی اقتصادی ترقی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا ،’’ 2022-2023 کا بجٹ جموں و کشمیر کے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے والا ہے۔ یہ ترقیاتی بجٹ ہے اور ہر علاقے کی معاشی ترقی اس بجٹ کا بنیادی ہدف ہے۔ یہ بجٹ جموں و کشمیر میںسرعت سے تبدیلی لانے والا ہے۔‘‘










