سری نگر// جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے منگل کے روز ’دی کشمیر فائلز‘ پر تنقیدکرتے ہوئے اسے’پروپیگنڈا فلم‘ قرار دیا۔جے کے این ایس کے مطابق ایک نیوز نجی چینل کودئیے اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر فارو ق نے کہاکہ یہ ایک پروپیگنڈا فلم ہے۔ اس نے ایک سانحہ کو جنم دیا ہے جس نے ریاست جموں وکشمیر کی ہر روح بشمول ہندئووں اورمسلمانوں کو متاثر کیا۔انہوںنے کہاکہ میرا دل آج بھی اس سانحے پر خون کے آنسوبہارہا ہے۔ڈاکٹرفاروق کاکہناتھاکہ سیاسی جماعتوں کا ایک عنصر تھا جو نسلی تطہیر میں دلچسپی رکھتا تھا۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے اس وقت بے عملی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ سچ جاننا چاہتے ہیں، تو وہ ان لوگوں سے بات کر سکتے ہیں جو اُنہیں بتا سکتے ہیں، جیسیموسیٰ رضا، جو میرے چیف سیکرٹری تھے، یا عارف محمد خان جو اس وقت مرکزی وزیر تھے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ذریعہ 1989 میں مفتی محمد سعید کی بیٹی روبائیہ کے اغوا کے بارے میں بات کرتے ہوئے، فاروق عبداللہ نے کہاکہ جب وہ (مرکز) 5 لوگوں کو رہا کرنا چاہتے تھے جنہیں ہم نے پکڑا تھا، میں نے انکار کر دیا۔ حکومت ہند کی قیادت وی پی سنگھ کر رہے تھے جسے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ اس طرح ایک فوت ہوئے شخص کے بارے میں بات کرنا غلط محسوس ہوتا ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اس وقت کے گورنر تھے جنہوں نے کشمیری پنڈتوں کو بسوں میں ڈالا تھا۔بقول فاروق عبداللہ اُسوقت کے گورنر نے پنڈتوں سے کہا تھا کہ میں تمہیں2 ماہ میں واپس لاؤں گا۔ مجھے ان لوگوں پر طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا اور انتقامی کارروائی تم پر پڑ سکتی ہے۔1990 میں کشمیری پنڈتوں کے اخراج پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس وقت کے گورنر جگموہن ملہوترا نے کشمیری ہندوؤں کو بسوں میں بٹھایا تھا اور کہا تھا کہ اُنہیں2 ماہ میں واپس لایا جائے گا۔ تاہم32 سال گزر چکے ہیں اور ان کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہم اس وقت کے گورنر جگموہن ملہوترا کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے پنڈتوں کو بسوں میں بٹھایا اور کہاکہ ہم آپ کو دو ماہ میں واپس لائیں گے کیونکہ مجھے ان لوگوں(باغیوں)پر طاقت کا استعمال کرنا ہے اور جوابی کارروائی کا اثرآپ لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ فاروق عبداللہ نے سوالیہ ندازمیں کہاکہ32 سال ہو گئے ہیں۔ کشمیری پنڈت کہاں ہیں؟۔ڈاکٹرفاروق نے کہاکہمیں تب (ہنڈتوں کے کشمیر سے ہجرت کے دوران) حکومت نہیں کر رہا تھا۔ جس لمحے جگ موہن آیا، میں نے ہار مان لی۔ میں نے کہاکہ کوشش کر کے حالات کو بچا لو۔ تم مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے، اس پر بھروسہ کرئو۔ اس کی حکومت کے پہلے ہی دن، 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ انچارج آدمی تھا۔ کیا وہ حالات کو بچانے کے قابل تھا؟۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ نہیں مانتے کہ وہ کشمیری پنڈتوں کے اخراج کے ذمہ دار تھے۔انہوںنے کہاکہمجھے نہیں لگتا کہ میں ذمہ دار ہوں۔ اگر لوگ تلخ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو انہیں اس وقت کے انٹیلی جنس بیورو چیف یا کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان سے بات کرنی چاہئے جو اس وقت مرکزی وزیر تھے۔فاروق عبداللہ نے کہاکہ سچ اس وقت سامنے آئے گا جب آپ ایک ایماندار جج یا کمیٹی بنائیں گے۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ذمہ دار کون ہے۔ اگر فاروق عبداللہ ذمہ دار ہیں تو فاروق عبداللہ ملک میں کہیں بھی پھانسی پر لٹکنے کو تیار ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں اس مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن ان لوگوں پر الزام نہ لگائیں جو ذمہ دار نہیں ہیں۔










