سری نگر//جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کا اوکھو گاؤں جسے ’’ہندوستان کا پنسل گاؤں‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی ترقی کی داستان رقم کی کیوں کہ یہ 90 فیصد خام مال ملک کے پنسل مینوفیکچرنگ یونٹوں کو فراہم کرتا ہے اور اسے جموں و کشمیر حکومت کے ذریعے سے 150 ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان لکڑی کا سامان چین جیسے ممالک سے درآمد کرتا تھا ،لیکن 2010 ء کے بعد سے مقامی کاروباریوں نے کشمیر کے مشہور سفیدہ کے درختوں کو اِستعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ ایک خاص قسم کی نرالی لکڑی ہے جو پنسلوں کی تیاری اور بنانے میں استعمال کی جاتی ہے جو اس کے لئے بہتر ین سمجھا جاتا ہے۔ سفیدہ کی لکڑی کشمیر کی وادیوں میں اچھی طرح اُگتی ہے جہاں نمی کا تناسب مثالی ہے اور درخت کی نشوونما کے دوران موسمی حالات لکڑی کو نرم رہنے دیتے ہیں۔حکومتی اعلان نے آف لائن کلاسوںکو دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے اوکھو میں پنسل سلیٹ بنانے والی سب سے بڑی فیکٹری کے مالک منظور احمد الائی کے لئے بہتر کاروبار کی اُمید کو پھر سے جگا دیا ہے جب کہ کووِڈوبا کی مدت کے دوران اُن کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔منظور احمد الائی نے2011 ء میں جب لکڑی کے سلیٹ بنانے کے ہنر کے بارے میں جاننے کے لئے جموں کا دورہ کیا، جس سے پنسلوں کو کاٹا جاتا ہے۔اُنہوں نے اوکھو میں ہندوستان کے ایک سرکردہ پنسل بنانے والے اور برآمد کنندہ ہندوستان پنسل کی مدد سے ایک یونٹ قائم کیا۔جلد ہی، دوسروں نے منظور احمد الائی کی مثال کی پیروی کی اور مزید سلیٹ بنانے والے یونٹس سامنے آئے۔اس موسم نے ہماری زندگیوں میں پھر ایک بار بہار لائی ہے۔ سکول، کالج دوبارہ کھل گئے۔ اب ہم ملک بھر میں بڑے برانڈز کی مانگ کی سپلائی کو فراہم کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے باہر سے میرے زیادہ تر کارکن واپس آ گئے ہیں اور ان میں سے باقی بھی مانگ کو پورا کرنے کے لئے کچھ دنوں میں ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔جوبلینٹ عالیہ نے کہا،’’ حکومت نے ہمیں سہولیت فراہم کی ہے ۔اَب ہم اَپنی پیداوار کو تیز کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے بجلی چاہتے ہیں۔‘‘یہ گاؤں اُس وقت نام میں آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اَپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں اس کی کامیابی کی داستان کا ذکر کیااور اُنہوں نے’’ہندوستان کے پنسل گاؤں‘‘ کے بارے میں طویل بات کی تھی۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کا پلوامہ پنسل مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے۔پردھان منتری نریندر مودی نے اَپنے 70ویں ’’ من کی بات‘‘ خطاب میں کہا تھا،’’آج پلوامہ پوری قوم کو تعلیم دینے میں اہم کردار اَدا کر رہا ہے۔ اگر ملک بھر کے طلباء اَپنا ہوم ورک کرتے ہیں، نوٹ تیار کرتے ہیں، تو یہ پلوامہ کے لوگوں کی محنت کی وجہ سے ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ملک میں پنسل سلیٹ کی تقریباً 90 فیصد مانگ وادی کشمیر سے پوری ہوتی ہے اور اس میں پلوامہ کا بڑا حصہ ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب ہم پنسل کے لئے لکڑی درآمد کرتے تھے لیکن اَب پلوامہ اِس میدان میں ملک کو خودکفیل بنا رہا ہے۔‘‘مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے لئے نئی صنعتی ترقیاتی سکیم کو منظوری دی۔ یہ سکیم خطے کی سماجی و اِقتصادی ترقی کے ایک دور کو شروع کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اُمنگوں کو بھی پورا کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سکیم کے آغازکے موقعہ پر کہا تھا،’’اِس سکیم کو اس نظریۂ کے ساتھ عملایا جا رہا ہے کہ صنعت اور خدمات کی قیادت میں جموں و کشمیر کی ترقی کو نئی سرمایہ کاری کو راغب کرکے اور موجودہ سرمایہ کاری کو فروغ دے کر ملازمتوں کی تخلیق، ہنر کی ترقی اور پائیدار ترقی پر زور دینے کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے نئی صنعتی ترقی سکیم خطے میں گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گی اور جموںوکشمیر یوٹی کو آتما نربھر بننے میں مدد دے گی۔ یہ نئی سرمایہ کاری توسیع کی حوصلہ افزائی کرے گا اور جموں و کشمیر میں موجودہ صنعتوں کو پروان چڑھانے کے علاوہ مقامی صنعتوں کو کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ایک بڑی مدد فراہم کرے گا۔










