جموں//جموں وکشمیر کے محکمہ صحت و طبی تعلیم کی ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کو جموںوکشمیر یوٹی کے تین اَضلاع اننت ناگ ، پلوامہ اور کپواڑہ کے ساتھ ملک میں سب نیشنل سرٹیفکیشن برائے ٹی بی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت گولڈ میڈل حاصل کرنے سے بڑی توثیق ملی۔ یہ سرگرمی مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے شروع کی تھی۔گولڈ میڈل سے 33 رِیاستوں اور یوٹیوں کے کل 8 اَضلاع کو نوازا گیااور اِس فہرست میں جموںوکشمیر کے 3اَضلاع ہیں۔ پانچ دیگر اَضلاع کیرالہ میں ملاپورم اوروائناد، مدھیہ پردیش میں کھر گون ، مہاراشٹر میں احمد نگر اور مغربی بنگال میں پور بامدنی پور جنہوں نے طلائی تمغے حاصل کئے ہیں۔اِن تمام اَضلاع میں گذشتہ پانچ برسوں میں ٹی بی معاملات میں 60فیصد سے 80فیصد تک کمی آئی ہے۔اِس پروگرام کے تحت جموںوکشمیر یوٹی کے بارہمولہ سے چوتھی اَنٹری نے کانسے کا تمغہ حاصل کیا۔اِس کامیابی پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری صحت و طبی تعلیم وویک بھرد واج نے بات کرتے ہوئے کہا ،’’ جموںوکشمیر یوٹی کے تین اَضلاع کو گولڈ میڈل ٹی بی کے خاتمے کے لئے ضلع اِنتظامیہ اور صحت دیکھ ریکھ کے اَفسران کی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم 2025ء تک ملک سے تپ دِق کو ختم کرنے کے مرکزی حکومت کے نظریۂ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ہماری کوششوں کا یہ اعتراف تپ دِق کے خاتمے کے پروگرام سے وابستہ نچلی سطح کی ٹیموں کو زیادہ جوش کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دے گا۔‘‘مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے 2020-21ء میں تپ دِق صورتحال کی طرف پیش رفت کے ذیلی قومی سر ٹیفکیشن کی پہل شروع کی تاکہ 2025ء تک ٹی بی کے مکمل خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف پیش رفت کا پتہ لگایا جاسکے۔ ریاست ، یوٹی اور اَضلاع سے جمع کردہ دعوئوں کی تصدیق آئی سی ایم آر ۔ نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف ریسر چ اِن ٹی بی ( آئی سی ایم آر ۔ این آئی آر ٹی )نے فروری ۔ مارچ 2021ء کے دوران آئی سی ایم آر نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف ایپیڈ یمولوجی ( آئی سی ایم آر ۔ این آئی اِی ) ، اِنڈین ایسو سی ایشن آف پریونٹیواور سوشل میڈیسن ( آئی اے پی ایس ایم )اور ڈبلیو ایچ او اِنڈیا کے تعاون سے مکمل کی تھی۔پروگرام کے ریکارڈ اور مریضوں کے انٹرویوز کے جائزے، پبلک سیکٹر میں منشیات کی کھپت کے اعداد و شمار اور نجی شعبے میں منشیات کی فروخت کے اعداد و شمار کی تصدیق، ریکارڈ کے جائزے اور نجی پریکٹیشنرز اور کیمسٹ کے ساتھ بات چیت سے پیش کردہ دعووں کے لئے فیلڈ لیول کی تصدیق کی گئی۔ اِن اِقدامات کو ٹی بی کے واقعات کا تخمینہ لگانے اور اَضلاع میں تصادفی طور پر منتخب دیہاتوں میں رپورٹنگ کے لئے ضلعی سطح کے سروے سے تعاون حاصل تھا۔










