سری نگر//کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے تسلیم کیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں، بشمول ان کی اپنی، ذات پات اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں میں تقسیم پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا جموں و کشمیر میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار پاکستان اور عسکریت پسندی ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے اتوار کو اعتراف کیا کہ تمام سیاسی پارٹیاں بشمول ان کی اپنی ذات پات اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں میں تقسیم پیدا کرتی ہیں۔تاہم، ان اختلافات سے قطع نظر، معاشرے کو متحد رہنا چاہیے، اور ہر کسی کو ان کے مذہب، ذات یا نسل سے قطع نظر انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاسیاسی جماعتیں مذہب، ذات پات اور دیگر چیزوں کی بنیاد پر 24گھنٹے تقسم کرنے میں لگے ہیں۔آزاد نے کہامیں اپنی (کانگریس) سمیت کسی بھی پارٹی کو معاف نہیں کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا سول سوسائٹی کو ساتھ رہنا چاہیے۔ آزاد نے جموں میں ایک تقریب میں کہا کہ ذات اور مذہب سے قطع نظر ہر کسی کو انصاف ملنا چاہیے۔سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس ایک پارٹی ہے، صرف ایک صدر ہے۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے ریاست میں جو کچھ ہوا اس کے لیے پاکستان اور عسکریت پسندی کو مورد الزام ٹھہرایا، انہوں نے مزید کہا کہ اس سے تمام ہندو، کشمیری پنڈت، کشمیری مسلمان اور ڈوگرہ متاثر ہوئے۔ان کا یہ تبصرہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم دی کشمیر فائلز پر تنازع کے درمیان آیا، جو کہ 1990 کی دہائی میں وادی سے ہندوؤں کے اخراج کے گرد گھومتی ہے۔










