انتخابی دھاندلی پر مرکزی سرکار کی خاموشی نے ملک مخالف مہم میں جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ ڈاکٹر جتندر سنگھ
سرینگر//مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں ملٹنسی کی بنیادی وجہ 1987میں ہوئی انتخابی دھاندلیاں بنی جس کی وجہ سے ہزاروں کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی دھاندلی پر اُس وقت کی مرکزی سرکار کی خاموش رہی کیوں کہ اُس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے مابین معاہدہ طے ہوا تھا اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جموں کشمیر کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ انہوںنے بتایا کہ انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے جموں کشمیر میں ملٹنسی بڑھی اور انتخابی دھاندلی کے خلاف آزادی کے نعرے سنائی دیے اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور وادی کشمیر میں دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں 1987 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ہونے والی دھاندلی ملٹنسی کے بڑھنے کی وجہ بنی۔ نئی دہلی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ وزیر اعلیٰ اور راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ فاروق عبداللہ دوبارہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئے۔ اس کے لیے ریاستی مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جتیندر سنگھ نے الزام لگایا کہ راجیو گاندھی اور فاروق عبداللہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وجہ سے مرکزی حکومت انتخابی دھاندلی پر خاموش رہی۔انتخابی دھاندلی کے خلاف آزادی کے نعرے سنائی دیے اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جیسی ملیٹنٹ تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور وادی کشمیر میں دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 14 ستمبر 1989 کو معروف کشمیری پنڈت اور بی جے پی کی کشمیر یونٹ کے صدر ٹکا لال ٹپلو کو قتل کر دیا گیا۔ اس وقت وزیر داخلہ مفتی محمد سعید تھے۔ڈاکٹر جتندر نے مزید کہا کہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کو اغوا کر لیا گیا اور کچھ جنگجوئوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس سے ملیٹنٹوں کے حوصلے بلند ہوئے اور عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں ہوا۔ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی ان پر شکنجہ کسنے کا کام شروع ہوا۔ ڈاکٹر جیتندرنے بتایا کہ ونگ کمانڈر روی کھنہ اور دیگر کئی افراد کے قتل کے مجرم یاسین ملک کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔مرکزی وزیر نے محبوبہ مفتی کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ مرکزی حکومت نے اس وقت کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کو روکنے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، سنگھ نے کہا کہ اس وقت محبوبہ مفتی کے والد مفتی محمد سعید ملک کے وزیر داخلہ تھے۔اس وقت کے گورنر جگموہن کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج کہہ رہے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے بے گھر ہونے کی وجہ جگموہن تھے، انہیں شاید تاریخ کا علم نہیں۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات پر کہ بی جے پی فلم کشمیر فائلز کی کھل کر حمایت کر کے اپنے فرقہ وارانہ اور تفرقہ انگیز ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیری پنڈت بے گھر لوگوں کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔










