جموں و کشمیر میں دفعہ370کے بعد سڑکوں کی تعمیر میں ریکارڈ تیزی

جموں وکشمیر میںسال2020-21ء کے دوران 2,400کلو میٹر دیہی سڑکیں تعمیر کی گئیں

سری نگر//مرکزی حکومت نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا ( پی ایم جی ایس وائی ) غربت میں کمی کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر غیر مربوط رہائش گاہوں کوکنکٹویٹی فراہم کرنے کے لئے شروع کی تھی۔ مرکزی حکومت اِس سکیم کے تحت دیہی سڑکوں کے نیٹ ورک میں اعلیٰ اور یکساں تکنیکی اوراِنتظامی معیارات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مائیکرو لیول سے پالیسی کی ترقی اور منصوبہ بندی میں سہولیت فراہم کر رہی ہے۔پی ایم جی ایس وائی کا بنیادی مقصد تمام ضروری اِنتظامات اور کراس ڈرنیج ڈھانچے سے ایک ہمہ موسمی سڑک رابطہ فراہم کرنا ہے تاکہ دیہی علاقوں میں 500 اَفراد یا اِس سے زیادہ کی آباد ی والے(2001 کی مردم شماری) غیر منسلک رہائش گائیں بنائیں جو سال بھر جڑے رہیں۔جموںوکشمیرمیں پی ایم جی ایس وائی پروگرام سال2001-02 ء میں شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد 2001ء کی مردم شماری کے مطابق زائد اَز 250 آبادی والے دیہی علاقوں میں غیر منسلک بستیوں کو ہمہ موسمی رابطہ فراہم کرنا ہے۔مرکزی وزارتِ دیہی ترقی نے پی ایم جی ایس وائی ۔ اوّل کے تحت 12مرحلوں میں 18,432.79کلومیٹر کی 3,347 سکیموںکو منظور ی دی ہے جس کی لاگت 1,19,646.76کرو ڑ روپے ہے اور 2,148 اہل بستیوں کو کنکٹویٹی فراہم کرناہے ۔
پی ایم جی وائی ایس ۔ دوم کے تحت 790.49 کروڑ روپے کی لاگت سے 704.55 کلومیٹر لمبائی کے لئے 107سکیمیں منظور کی گئیں۔آج تک 13,233.36 کلومیٹر کی 2,113 سکیمیں 7864.60 کروڑ روپے کے خرچ سے مکمل ہوچکی ہیں اور 2,148اہل بستیوں میں سے 1,943 بستیوں کو سڑک رابطہ سے جوڑا گیا ہے۔رواں برس کے دوران 3,500 کلومیٹرہدف کے مقابلے میں آ ج2,400 کلومیٹر تک 1,380 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔ اِس طرح 280 سکیمیں مکمل کی گئی ہیں اور 105 اہل بستیوں کو منسلک کیا گیا ہے۔روڈ سیکٹر کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور اَپ گریڈیشن کا کام کیا جاتا ہے ۔ اِس سکیم کے تحت اراضی کے حصول اور سڑک کو چوڑا کرنے کے لئے درکا یوٹیلی ٹیز کی منتقلی کے لئے فنڈس بھی فراہم کئے گئے ہیں۔سال 2020-21ء کے دوران 582کلومیٹر لمبائی سڑک کی تعمیر کے لئے 737سڑک پروجیکٹوں کے لئے 270 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے ۔ تمام اَضلاع کے علاقوں بالخصوص دُور دراز علاقوں کو بہتر سڑک رابطہ فراہم کرنے کے لئے محکمہ کی طرف سے اِنتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔
پُل پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑک رابط ے کا ایک اہم جزو ہیں ۔ پُل رَسائی کو یقینی بناتے ہیں اور سفر کا وقت کم کرتے ہیں ۔ جموں وکشمیر یوٹی کی ٹپو گرافی اور ندیوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نئے پُلوں کی تعمیر کی مانگ بہت زیادہ ہے۔محکمہ کی طرف سے 2008 ء میں ایک خصوصی پُل پروگرام شروع کیا گیا جس میں نئے پُلوں کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا ۔ سال 2020-21 کے دوران 327 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے 78 پُل زیر تکمیل ہیں۔سال 2020-21ء کے دوران 60کروڑ روپے کی اِضافی رقم بھی مختص کی گئی ہیں۔سڑکوں کی دیکھ ریکھ بھی اِتنی ہی ضروری ہے جتنی نئی سڑکوں کی تعمیر ۔عام ٹوٹ پھوٹ اور سخت موسمی حالات کی وجہ سے سڑکوں کے میکڈیمائزیشن کوٹ خراب ہوجاتے ہیں اور چند برسوں کے بعدا ن کی دیکھ ریکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔محکمہ کے کیپکس بجٹ کے تحت ’’ شہروں اور قصبوں ‘‘ کے نام سے ایک سکیم متعارف کی گئی ہے جس کے تحت شہر اور قصبے کی سڑکوں اور جموںوکشمیر یوٹی کے اہم ضلعی سڑکوں کو تجدید میکڈیمائزیشن کوٹ فراہم کرنے کے لئے فنڈس مختص کئے گئے ہیں۔
سال 2020-21ء کے دوران اِس پروگرام کے تحت 400 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس سے 1,650 کلومیٹر سڑک لمبائی کو میکڈیمائز کرنے کا منصوبہ ہے۔جموںو کشمیر کے ضلع اودھمپور نے سال 2020-21ء میں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کو کامیابی سے عمل آوری کے لئے قومی سطح پر 560.49 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کے لئے ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی کے مزید چار اَضلاع راجوری (420.25 کلومیٹر)، ڈوڈہ (335.71 کلومیٹر)، کٹھوعہ (297.79 کلومیٹر) اور ریاسی (223.23 کلومیٹر) پی ایم جی ایس وائی کے سب سے زیادہ کارکردگی والے ملک کے 30 اَضلاع کی فہرست میں شامل ہیں۔جموںوکشمیر حکومت نے گذشتہ چند برسوں میں پی ایم جی ایس وائی کی عمل آوری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ حکومت نے دیہی علاقوں کی ترقی کو اوّلین مقاصد میں سے ایک بنایا ہے۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ کے لئے اِقتصادی اور سماجی خدمات تک رَسائی کو فروغ دے کر سڑک رابطے نہ صرف دیہی ترقی کا ایک اہم جزو ہے بلکہ زرعی آمدنی میں اِضافہ اور روزگار کے پیداواری مواقع پید ا کرنا بھی ان کے نفاذ کی حکمت عملہ کا حصہ ہے۔