گذشتہ چند برسوں میں عوام اور اِنتظامیہ کے درمیان روابط میں اِضافہ ہوا ہے:مشیر فاروق خان
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے سول سیکرٹریٹ میں متعدد عوامی وَفود اور اَفراد سے ملاقات کی۔وَفود اور اَفراد نے کئی مطالبات اور مسائل مشیر موصوف کو گوش گزار کئے اور ان کے ازالے کی مانگ کی ۔مشیر فاروق خان نے وفودکے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اِس بات پر روشنی ڈالی کی گذشتہ چند برسوں سے عوام اور اِنتظامیہ کے درمیان روابط میں اِضافہ ہوا ہے اور عوامی شکایات کے ازالے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ ایل جی اِنتظامیہ نے شہریوں پر مبنی حکمرانی کے لئے مختلف اقدامات شروع کئے ہیں جس میں ایل جی ملاقات ، عوامی کی آواز وغیرہ شامل ہیں جو عوام کو ان کے مسائل اور عوامی اہمیت کی شکایات کو پیش کرنے کے لئے ٹھوس پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔بڈگام ڈیولپمنٹ فورم کے ایک وفد نے مشیر موصوف سے ملاقات کی اور ضلع بڈگام کے متعدد ترقیاتی مسائل سے مشیر موصوف کو آگاہ کیا ۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کو ہرقسم کی جدید طبی سہولیات سے آراستہ کیا جائے ۔ اُنہوں نے ضلع میں خواتین کالج اور بچوں کے لئے تفریحی پارک کا بھی مطالبہ کیا۔اِسی طرح آئی سی ڈی ایس کے کنٹریکٹ ملازمین کے ایک وفد نے بھی مشیر فاروق خان سے ملاقات کی اور محکمہ میں اَپنی کنسلیڈیٹیڈ / کنٹریکٹ پر خدمات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ایک اور وفد میں فیر پرائس شاپ ڈیلرس ایسو ایشن نے بھی مشیر موصوف سے ملاقات کی اور ایف پی ایس پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے نئی مناسب قیمت کی دُکانیں کھولنے کے لئے 2015ء کے مرکزی حکومت کے پی ڈی ایس کنٹرول آرڈر کی شق 9پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔وقف بورڈ کے کنٹریکٹ ملازمین کے ایک وفد نے بھی مشیر فاروق خان سے ملاقات کی اور بورڈ میں اَپنی تعلیمی اِنتظامات کی خدمات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ۔اُنہوں نے بورڈ کے نئے اِشتہارات میں نرمی کا بھی مطالبہ کیا۔اِسی طرح قومی زعفران مشن کے بورویل کی دیکھ ریکھ کرنے والوں کے ایک وفد نے قومی زعفران مشن کے تحت اَپنی خدمات کے استعمال کے لئے ایک مناسب پالیسی کا مطالبہ کیا۔اِن وفود کے علاوہ گاندربل ، راجوری ، سوپوراور دیگر علاقوں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی مشیر فاروق خان سے ملاقات کی اور اَپنے مسائل اور مطالبات مشیر موصوف کے سامنے پیش کئے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے اِن وفود اور اَفراد کے مسائل بغور سنا اور انہیں یقین دِلایا کہ ان کے تمام جائزمسائل اور مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔










