داچھی گام پارک میں نایاب جنگلی جانور ہانگل کی تعداد میں اضافہ

داچھی گام پارک میں نایاب جنگلی جانور ہانگل کی تعداد میں اضافہ

سرینگر// داچھی گام نیشنل پارک میں کشمیری ہانگ کے ایک ریوڈ کو دیکھا گیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دگئی ہے جس سے یہ امید پیدا ہوائی ہے کہ وادی کشمیر کے جنگلات خاص کر داچھی گام میں ابھی بھی نایاب قسم کا یہ جانور موجود ہے اور سرکار کی جانب سے ہانگل کو بچانے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ کارآمد ثابت ہورہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق خطرے سے دوچار ہانگل کا ریوڑ کشمیر کے دچھی گام نیشنل پارک میں دیکھا گیا۔کشمیر کے نایاب جنگلی جانور ہانگل ایک بڑے ریوڑ کو دکھایا گیا ایک ویڈیوبھی اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی ہے ۔ کشمیر میں پائے جانے والے ہانگل کی نسل لگ بھگ ختم ہونے کے قریب تھی تاہم محکمہ وائلڈ لائف اور سرکار کی کوششوں کے بعدلگتا ہے کہ ہانگل اب وادی کے جنگلات میں پھر سے موجود ہیں کیوں کہ یہ نسل شدید خطرے سے دوچار تھی۔ اس ویڈیونے امید پیدا کی ہے کہ جموں و کشمیر حکومت کی تحفظ کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات کے ایک سینئر اہلکار کی جانب سے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں زبروان پہاڑی سلسلے میں واقع داچھی گام نیشنل پارک کی برف سے ڈھکی ڈھلوانوں پر 50 کے قریب ہانگلوں کے ریوڑ کو دکھایا گیا ہے۔’’ وائلڈ لائف وارڈن راشد نقاش نے ویڈیو کے ساتھ پوسٹ کیا‘‘جب میں دچھی گام میں ہانگل ریوڑ کو اس طرح دیکھتا ہوں توہانگل کا مستقبل روشن لگتا ہے۔ریوڑ کی جسامت بہت اہم ہے کیونکہ حکام کو امید ہے کہ نیشنل پارک کے دیگر حصوں میں اس طرح کے کم از کم کئی اور ریوڑ ہوں گے، جو برف کی وجہ سے ابھی تک انسانوں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ہانگل20ویں صدی کے اوائل میں وادی کشمیر کے پہاڑی اور پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے تھے جن کی تعداد تقریباً 5000 بتائی جاتی ہے۔تاہم شکار اور ان کے قدرتی رہائش گاہ پر تجاوزات کی وجہ سے، 1970 میں یہ تعداد صرف 150 کے قریب رہ گئی۔جموں و کشمیر حکومت نے IUCN اور WWF کے ساتھ مل کر پراجیکٹ ہانگل کے نام سے ایک تحفظاتی منصوبہ شروع کیاجس سے ہانگلوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ آہستہ آہستہ ہورہاہے تاہم ہانگل اب مختلف جنگلوں میں دیکھے جارہے ہیں ۔ 2019 میں ہونے والی آخری مردم شماری میں کشمیر سٹیگ کی تعداد 237 تک پہنچنے کا انکشاف ہواتھا ۔ اگر سرکار ہانگل کے شکار پر مکمل طورپر پابندی لگانے اور غیر قانونی شکارکو روکنے میںکامیاب ہوگی تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہانگل کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔